عن أبي هريرة -رضي الله عنه- مرفوعاً: "لا عَدْوَى ولا طِيَرَة ولا هَامَةَ ولا صَفَرَ" أخرجاه. زاد مسلم "ولا نَوْءَ ولا غُولَ".
[صحيح.] - [متفق عليه.]
المزيــد ...

ابوہریرہ ضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چھوت لگنے، بدشگونی، الو کی نحوست اور ماہ صفر کی نحوست جیسی باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے“۔ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم دونوں ہی نے ذکر کی ہے۔ امام مسلم کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ”اور نہ تارے کی گردش میں کوئی تاثیر ہے اور نہ بھوت کی کوئی حقیقت ہے“۔
[صحیح] - [متفق علیہ]

شرح

چوںکہ زمانۂ جاہلیت میں بہت سی ایسی خرافات اور اوہام کا دور دورہ تھا، جن کے پیچھے کوئی بھی دلیل نہیں تھی، اس لیے اسلام نے چاہا کہ وہ اپنے پیروکاروں کو ان باطل عقائد سے بچائے۔ چناںچہ اسلام نے حدیث میں مذکورہ ان اشیا کے بارے میں مشرکین کا جو عقیدہ تھا، اسے ناپسند کیا۔ ان میں سے کچھ کے بارے میں تو اس نے یہ کہا کہ ان کا بالکل کچھ وجود ہی نہیں ہے، جیسے بد شگونی لینا اور بعض میں بذات خود کسی تاثیر کے ہونے کی نفی کی۔ کیوںکہ اچھی چیزوں کو اللہ ہی لاتا ہے اور بری اشیا کو دور ہٹانے والے بھی وہی ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی
ترجمہ دیکھیں