عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهِ عَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ شَرَائِعَ الإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيْنَا، فَبَابٌ نَتَمَسَّكُ بِهِ جَامِعٌ؟ قَالَ:
«لاَ يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ».
وفي رواية: مِنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: آخِرُ مَا فَارَقْتُ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قُلْتُ: أَيُّ الأَعْمَالِ خَيْرٌ وَأَقْرَبُ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَمُوتَ وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ».
[صحيح] - [رواه أحمد والترمذي وابن ماجه وابن حبان] - [الأربعون النووية: 50]
المزيــد ...
عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! امور اسلام تو بہت زیادہ ہیں۔ کوئی ایسا جامع عمل بتائیں، جسے ہم لازم پکڑیں! آپ ﷺ نے فرمایا:
"تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے"۔ معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے؛ وہ کہتے ہيں: اللہ کے رسول ﷺ سے جدا ہوتے وقت میں نے آخری بات یہ پوچھی کہ کون سا عمل اللہ کے نزدیک سب سے بہتر اور اللہ سے سب سے قریب کرنے والا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: "تمھاری موت اس حالت میں ہو کہ تمھاری زبان اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے۔"
[صحیح] - [اسے احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔] - [اربعین نوویہ - 50]
ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور شکایت کی کہ اسے نفل عبادتیں اتنی زیادہ لگتی ہیں کہ اپنے ضعف کی وجہ سے انھیں انجام دے نہيں سکتا۔ پھر گزارش کی کہ آپ اسے کوئی چھوٹا سا عمل بتا دیں، جس سے بہت سارے ثواب حاصل ہو جائيں اور جسے وہ مضبوطی سے پکڑے رہیں۔
لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی رہ نمائی اس جانب کی کہ ہمیشہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے تر اور ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کے ذکر میں مشغول رہے۔ ذکر میں سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ اور دعا وغیرہ شامل ہيں۔