1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. دعوت و احتساب

حدیث بے شک دین آسان ہے۔ جو شخص دین کے معاملے میں سختی اختیار کرے گا، اس پر دین غالب آ جائے گا۔ چنانچہ اپنے عمل میں راستگی اختیار کرو اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
"بے شک دین آسان ہے۔ جو شخص دین کے معاملے میں سختی اختیار کرے گا، اس پر دین غالب آ جائے گا۔ چنانچہ اپنے عمل میں راستگی اختیار کرو اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ، اور صبح و شام اور کسی قدر رات میں (عبادت کے ذریعہ) مدد حاصل کرو"۔

صحيح رواه البخاري صحيح البخاري - 39

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ مذہب اسلام کی بنیاد تمام معاملات میں آسانی اور سہولت فراہم کرنے پر رکھی گئی ہے۔ یہ آسانی اور سہولت اس وقت کہیں زیادہ فراہم کی گئی ہے، جب عجز و حاجت موجود ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ دینی اعمال میں تعمق اور ترک رفق کا انجام عجز اور انقطاع عمل کی صورت ہی میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے بعد رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے میانہ روی کی ترغیب دی۔ بندہ نہ تو شرعی احکام کی بجا آوری میں کوتاہی سے کام لے اور نہ اپنے اوپر ایسی چیزیں لادے، جنھیں اٹھانے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ اگر کامل ترین پر عمل نہ کر سکے، تو اس سے قریب ترین پر عمل کرے۔
اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے شخص کو بڑے اجر و ثواب کی خوش خبری دی ہے، جو کامل ترین پر عمل نہ کر پانے کی وجہ سے تھوڑا سا عمل ہی کرتا ہو، لیکن اس میں تسلسل ہو۔ کیوں کہ عدم استطاعت میں اگر بندے کا عمل دخل نہ ہو، تو اس سے اس کے اجر و ثواب میں کمی نہیں آتی۔
پھر چوں کہ دنیا سفر کی جگہ اور آخرت کی گزرگاہ ہے، اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تین نشاط آمیز اوقات میں تسلسل کے ساتھ عبادت کے ذریعے مدد حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ تین اوقات اس طرح ہیں:
1- الغدوۃ : دن کے پہلے حصے میں چلنا۔ دن کے پہلے حصے سے مراد فجر کی نماز سے لے کر سورج نکلنے کے درمیان کا وقت ہے۔
2- الروحۃ : زوال کے بعد چلنا۔
3- دلجۃ : پوری رات یا رات کے کچھ حصے میں چلنا۔ چوں کہ رات میں کام کرنا دن میں کام کرنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے، اس لیے "وشيءٍ من الدلجة" کہہ کر اس کے کچھ حصے میں کام کرنے کا حکم دیا ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. اسلامی شریعت آسانى، کشادگى اور افراط و تفریط سے دور اعتدال کی حامل شریعت ہے۔
  2. انسان کو کوئی بھی کام اپنی استطاعت کے مطابق کرنا چاہیے۔ نہ سستی کا عمل دخل ہو اور نہ انتہا پسندی کا۔
  3. انسان کو عبادت کے لیے ایسے اوقات کا انتخاب کرنا چاہیے، جب طبیعت میں نشاط اور چستی ہو۔ مذکورہ تین اوقات ایسے ہیں کہ ان میں جسم عبادت کی جانب سب سے زیادہ آمادہ رہتا ہے۔
  4. ابن حجر کہتے ہيں: یہاں ایک طرح سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی منزل کی جانب سفر کر رہے شخص کو مخاطب کیا ہے۔ چوں کہ اس حدیث میں مذکور تین اوقات سفر کے لیے سب سے مناسب اوقات ہیں، اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی نشان دہی فرما دی۔ کیوں کہ اگر مسافر رات دن چلتا ہی رہ جائے، تو کچھ دوری طے کرنے کے بعد تھک ہارکر بیٹھ جائے گا۔ اس کے برعکس اگر ان نشاط آمیز اوقات میں چلے اور اس کے بعد آرام کرے تو سفر کو جاری رکھنا آسان ہو جائے گا۔
  5. ابن حجر کہتے ہيں: اس حدیث میں اشارہ شرعی رخصت پر عمل کرنے کی جانب ہے۔ کیوں کہ جہاں رخصت ہو، وہاں عزیمت سے چپکے رہنا، انتہا پسندی ہے۔ مثلا کسی کے لیے پانی کا استعمال ممنوع ہو اور تیمم کے بجائے وضو کرنے پر مصر رہے اور اس کی وجہ سے اس کا نقصان بھی ہو جائے۔
  6. ابن المنیر کہتے ہیں: یہ حدیث محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے برحق نبی ہونے کی ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ ہم نے اور ہم سے پہلے کے لوگوں نے دیکھا ہے کہ طاقت سے زیادہ عمل کا بوجھ اٹھانے کی کوشش کرنے والا ہر شخص تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ یہاں عبادت کی کامل ترین روش پر گام زن ہونے سے منع نہیں کیا گیا ہے۔ یہ تو ایک قابل ستائش رویہ ہے۔ منع افراط سے کیا گیا ہے جو تھک ہار کر بیٹھ جانے کا سبب بنتا ہے، نفلی عبادتوں میں مبالغے سے منع کیا گیا ہے جو ترک افضل یا کسی فرض کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے کا سبب بنتا ہے۔ جیسے کوئی رات بھر تہجد پڑھ کر سوگیا اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا نہ کر سکا یا پھر سورج نکلنے تک سویا ہی رہ گیا۔

تراجم کا مشاہدہ

53 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية