1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فضائل و آداب

حدیث دونعمتیں ایسی ہیں، جن کے بارے میں بہت سارے لوگ (ان کے غلط استعمال کی وجہ سے) خسارے اور گھاٹے میں رہتے ہیں۔ صحت اور فراغت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالفَرَاغُ».

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"دونعمتیں ایسی ہیں، جن کے بارے میں بہت سارے لوگ (ان کے غلط استعمال کی وجہ سے) خسارے اور گھاٹے میں رہتے ہیں۔ صحت اور فراغت"

صحيح رواه البخاري صحيح البخاري - 6412

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث میں انسان کو حاصل اللہ کی دو عظیم ترین نعمتوں کے بارے میں خبر دی ہے، جن کے غلط استعمال کی وجہ سے اکثر لوگ ان کے بارے میں خسارے میں رہتے ہيں۔ کیوں کہ جب انسان کے پاس صحت وفراغت دونوں رہتی ہیں، تو اس پر نیکی کے کاموں میں سستی حاوی ہو جاتی ہے اور اس طرح وہ گھاٹا اٹھانے والا ٹھہر جاتا ہے۔ اکثر یہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن اگر دونوں کا استعمال نیکی کے کاموں میں کر لیتا ہے، تو نفع اٹھانے والا ٹھہرتا ہے۔ کیوں کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ دنیا میں جو تجارت ہوتی ہے اس کا نفع آخرت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ فراغت کے بعد مشغولیت آجاتی ہے اور صحت کے بعد بیماری آجاتی ہے۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو بڑھاپا آجاتا ہے اور اس کے بعد زیادہ کچھ باقی نہیں رہ جاتا۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. مکلف انسان کو تاجر سے اور صحت وفراغت کو سرمایہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ چنانچہ جو شخص اپنے سرمایہ کو بہتر انداز میں استعمال کرتا ہے وہ فائدے میں رہتا ہے اور جو شخص سرمایہ کو ضائع کردیتا ہے وہ خسارہ اور ندامت کا سامنا کرتا ہے۔
  2. ابن خازن کہتے ہيں: نعمت وہ ہے جس سے انسان لطف اندوز اور لذت یاب ہو۔ جب کہ 'غبن' یہ ہے کہ انسان کسی چيز کو اس کی قیمت سے کئی گنا قیمت میں خریدے یا ثمن مثل سے کم قیمت میں بیچے۔ ان باتوں کو دھیان میں رکھنے کے بعد جان لیں کہ جس کا جسم تندرست ہو، کندھوں پر مشغولیتوں کا بوجھ نہ ہو اور اس کے باوجود وہ اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے کام نہ کرے، تو وہ خرید وفروخت میں 'غبن' کے شکار انسان کی طرح ہے۔
  3. اللہ پاک کا تقرب حاصل کرنے اور خیر وبھلائی کے کام کرنے کے لیے صحت وفراغت سےخوب فائدہ اٹھانا چاہیے، قبل اس کے کہ وہ ہاتھ سے نکل جائیں۔
  4. اللہ کی نعمتوں کا شکر یہ ہے کہ انہیں اللہ کی اطاعت میں استعمال کیا جائے۔
  5. قاضی اور ابو بکر ابن عربی کہتے ہیں: بندے پر اللہ کی پہلی نعمت کون سی ہے، اس سلسلے میں اختلاف ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق پہلی نعمت ایمان ہے، کچھ لوگوں کے مطابق حیات ہے اور کچھ لوگوں کے مطابق صحت۔ پہلا قول زیادہ بہتر ہے، کیوں کہ وہ مطلق نعمت ہے، جب کہ حیات اور صحت دنیوی نعمتیں ہیں اور کوئی نعمت اسی وقت حقیقی نعمت بن سکتی ہے جب ایمان سے جڑی ہوئی ہو۔ ایسے میں اس سلسلے میں بہت سے لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں۔ یعنی ان کا نفع ختم ہو جاتا ہے یا گھٹ جاتا ہے۔ جس نے برائی کا حکم دینے والے اور آرام و راحت کی جانب جھکاؤ رکھنے والے نفس کی پیروی کی، حدود اللہ کے اتباع سے گریز کیا اور نیکی کے کاموں میں پابندی برتنے میں سستی دکھائی، وہ گھاٹے میں رہا۔ اسی طرح جب فرصت کے لمحات میسر رہے اور فائدہ نہيں اٹھایا، تو گھاٹے میں رہا۔ کیوں کہ مشغول انسان کے پاس مشغولیت کا عذر ہوا کرتا ہے، جس کی بنا پر اسے معذور سمجھا جا سکتا ہے۔

تراجم کا مشاہدہ

46 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
NE नेपाली النيبالية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية