عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ إِلاَّ كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً، فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ».
[صحيح] - [رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى] - [سنن الترمذي: 3380]
المزيــد ...
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
’’لوگ جب کسی ایسی محفل میں بیٹھیں، جس میں نہ اللہ کو یاد کریں اور نہ اپنے نبی پر درود بھیجیں، تو وہ (محفل) ان کے لیے باعثِ نقصان ہوگی۔ پھر اگر (اللہ تعالی) چاہے تو انھیں عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کردے۔‘‘
[صحیح] - [اسے ابو داود، ترمذی، اور نسائی نے ’’الکبری‘‘ میں روایت کیا ہے۔] - [سننِ ترمذی - 3380]
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے ذکر سے غفلت برتنے سے خبردار کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں سے اللہ کا ذکر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجے بغیر اٹھ گئے، تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے حق میں حسرت، ندامت، خسارہ اور نقصان کا سامان ہوگی۔ ایسے میں اگر اللہ چاہے گا، تو ان کو ان کے سابقہ گناہوں اور بعد میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں کے پیش نظر عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو اپنے فضل و کرم کی بنا پر معاف کر دے گا۔