عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى».

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح مسلم: 2586]
المزيــد ...

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت و مودّت اور باہمی ہمدردی کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے، بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔"

[صحیح] - [متفق علیہ] - [صحیح مسلم - 2586]

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا ہے کہ خیرخواہی، رحمت، آپسی تعاون، مدد اور نقصان سے ہونے والی اذیت کے احساس کے معاملے میں مسلمانوں کا حال ایک جسم کے جیسا ہونا چاہیے کہ جب جسم کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے، تو اس کے ساتھ پورا جسم رات جاگتا ہے اور بخار کا شکار رہتا ہے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. مسلمانوں کے حقوق کو اہمیت دینی چاہیے اور ان کو ایک دوسرے کا تعاون کرنے اور ایک دوسرے کے تئیں نرم پہلو اختیار كرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔
  2. اہل ایمان کے درمیان آپسی محبت اور باہمی نصرت کی فضا ہموار ہونی چاہیے۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (54)
مزید ۔ ۔ ۔