+ -

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه مرفوعًا: «إنما مَثَلُ الجَلِيسِ الصالحِ وجَلِيسِ السُّوءِ، كَحَامِلِ المِسْكِ، ونَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ: إما أنْ يُحْذِيَكَ، وإما أنْ تَبْتَاعَ منه، وإما أن تجد منه رِيحًا طيبةً، ونَافِخُ الكِيرِ: إما أن يحرق ثيابك، وإما أن تجد منه رِيحًا مُنْتِنَةً».
[صحيح] - [متفق عليه]
المزيــد ...

ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:
"اچھے ہم نشیں اور برے ہم نشیں کی مثال بعینہ ایسی ہی ہے جیسے کہ عطر فروش اور بھٹی پھونکنے والا۔ عطر فروش یا تو تمہیں عطر تحفے میں دے دے گا یا پھر تم اس سے عطر خرید لو گے یا ( کم از کم )تمہیں اس سے خوش بو تو آئے گی ہی۔ جب کہ بھٹی میں پھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا ڈالے گا یا پھر تمہیں اس سے بدبو آئے گی۔"

صحیح - متفق علیہ

شرح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے دو قسم کے لوگوں کی ایک مثال دی ہے:
پہلی قسم : صالح ہم نشیں اور دوست، جو اللہ اور اس کی رضا کے کاموں کی راہ دکھائے اور نیکی کے کاموں میں معین و مددگار ہو۔ اس کی مثال خوشبو بیچنے والے کی طرح ہے۔ وہ یا تو ہدیہ کرے گا یا تم اس سے خرید لوگے یا کم از کم اس کی خوشبو تمھارے مشام جاں کو معطر کرے گی۔
دوسری قسم : برا دوست اور ہم نشیں، جو اللہ کی راہ سے روکے، گناہ کے کاموں میں مدد کرے اور برے برے کام کرے اور اس کى صحبت اور دوستى سے اس کے ہمنشیں اور دوست کو مذمت لا حق ہو۔ ایسے دوست کی مثال اس لوہار کی طرح ہے، جو بھٹی پھونکتا رہتا ہو۔ وہ یا تو اڑتی ہوئی چنگاریوں سے تمھارے کپڑے جلا دے گا یا پھر اس کی بھٹی کی بدبو سے تمہاری طبیعت مکدر ہوتی رہے گی۔

ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان روسی زبان بوسنیائی زبان سنہالی ہندوستانی چینی زبان فارسی زبان ویتنامی تجالوج کردی ہاؤسا پرتگالی سواحلی تھائی آسامی السويدية الأمهرية القيرقيزية اليوروبا الدرية
ترجمہ دیکھیں

حدیث کے کچھ فوائد

  1. سامع کو کوئی بات سمجھانے کے لیے مثال پیش کرنا جائز ہے۔
  2. نیک اور صالح لوگوں کی ہم نشینی اختیار کرنے اور بگڑے ہوئے اور بدخلق لوگوں سے الگ رہنے کی ترغیب۔