1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)

حدیث یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات کا چکر چلتا ہے اور اللہ کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے،

عن تَميم الداري رضي الله عنه، قال: سمعتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:

«‌لَيَبْلُغَنَّ ‌هَذَا الأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ هَذَا الدِّينَ، بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ، عِزًّا يُعِزُّ اللهُ بِهِ الإِسْلَامَ، وَذُلًّا يُذِلُّ اللهُ بِهِ الكُفْرَ» وَكَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ يَقُولُ: قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمُ الْخَيْرُ وَالشَّرَفُ وَالْعِزُّ، وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ كَافِرًا الذُّلُّ وَالصَّغَارُ وَالْجِزْيَةُ.

تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا :
"یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات کا چکر چلتا ہے اور اللہ کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے، خواہ اسے عزت کے ساتھ قبول کر لیا جائے یا اسے رد کر کے (دنیا و آخرت کی) ذلت قبول کر لی جائے؛ ایسی عزت جو اللہ اسلام کے ذریعے عطا کرے گا اور ایسی ذلت جس سے اللہ کفر کی وجہ سے دوچار کرے گا۔" تمیم داری رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ اس فرمان رسول ﷺ کی صداقت میں نے اپنے خاندان میں دیکھی ہے کہ ان میں سے جو مسلمان ہوگیا، اسے خیر، شرافت اور عزت نصیب ہوئی اور جو کافر رہا، اسے ذلت، رسوائی اور جزیہ کا سامنا کرنا پڑا۔

صحيح رواه أحمد مسند أحمد - 16957

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عن قریب یہ دین روئے زمین کے تمام گوشوں میں پھیل جائے گا۔ جہاں بھی رات اور دن کا سلسلہ ہے، وہاں یہ دین پہنچ جائے گا۔ شہر و بستی اور دیہات و صحرا کا ایسا کوئی گھر باقی نہيں رہے گا، جہاں یہ دین پہنچ نہ جائے۔ لہذا جو اس دین کو قبول کرے گا اور اس پر ایمان رکھے گا، وہ اسلام کی طاقت کی برکت سے طاقت ور ہو جائے گا۔ اس کے برخلاف جو اسے ٹھکرا دے گا، وہ رسوا اور ذلیل ہوگا۔
پھر صحابی تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی بتائی ہوئی اس بات کا تجربہ انھیں خود اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہوا۔ جو مسلمان ہو گئے، ان کو عزت ملی اور جنھوں نے کفر کیا، انھیں ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں مسلمانوں کو جو مال دینا پڑتا ہے وہ اس پر سوا ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. مسلمانوں کے لیے یہ خوش خبری ہے کہ ان کا دین روئے زمین کے تمام گوشوں میں پھیل کر رہے گا۔
  2. عزت وسرخ روئی اسلام اور مسلمانوں کے لیے ہے اور ذلت وخواری کفر اور کافروں کے لیے مقدر کردی گئی ہے۔
  3. اس حدیث میں محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کی ایک بہت بڑی نشانی موجود ہے کہ آپ نے جو کچھ بتایا وہ صد فی صد درست ثابت ہوا۔

تراجم کا مشاہدہ

57 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية
زمرہ جات (کٹیگریز)
  • . .