”وہ لوگ سب سے برے لوگوں میں سے ہیں، جو قیامت کے وقوع کے وقت باحیات رہيں گے اور جو قبروں کو مسجد بنا لیں گے“۔
کیا میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات نہ بتا دوں، جو کسی نبی نے اپنی قوم کونہیں بتائی؟ وہ کانا ہوگا اور اپنے ساتھ جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔
اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں، عرب کے لیے تباہی اس شر سے آئے گی، جس کے واقع ہونے کا زمانہ قریب آ گیا ہے۔ آج یاجوج اور ماجوج کی دیوار میں اتنا شگاف پیدا ہو گیا ہے۔
ہم حجۃُ الوداع کے بارے میں گفتگو کیا کرتے تھے، جب کہ نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے اور ہم نہیں سمجھتے تھے کہ حجۃ الوداع کا مفہوم کیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور قیامت اتنے نزدیک نزدیک بھیجے گیے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کے اشارہ سے (اس نزدیکی کو) بتایا پھر ان دونوں کو پھیلایا۔
یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات کا چکر چلتا ہے اور اللہ کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے،
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ قاتل کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس نے کس بنا پر قتل کیا اور مقتول کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس کا کس بنا پر قتل ہوا
آدمی سوئے گا اور امانت اس کے دل سے قبض کر لی (اٹھالی) جائے گی، چنانچہ اس کا اثر ایک معمولی نشان کی طرح باقی رہ جائے گا۔ پھر وہ سوئے گا اور امانت اس کے دل سے نکال لی جائے گی، تو اس کا نشان آبلے کی مانند باقی رہ جائے گا۔
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک یہ صورت حال نہ ہوجائے کہ آدمی کا گزر قبر پر سے ہوگا تو وہ اس پر لوٹ پوٹ ہو کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اس قبر والے کی جگہ میں دفن ہوتا!۔ اس کا سبب دین نہیں ہوگا، بلکہ وہ دنیا کی مصیبت کی وجہ سے یہ تمنا کر ے گا۔
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نہ نکل آئے جس پر لڑ ائی ہوگی اور ہر سو ميں سے ننانوے آدمی مارے جائيں گے
لوگ مدینے کو پہلے سے بہتر حالت میں چھوڑ جائیں گے، البتہ وہ ایسے اجڑا ہوا ہوگا کہ وہاں وحشی جانور ہی بسیں گے۔
لوگوں پر ضرور ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ایک شخص سونے کا صدقہ لے کر نکلے گا، لیکن کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اور یہ بھی ہو گا کہ ایک مرد کی پناہ میں چالیس چالیس عورتیں ہو جائیں گی؛ ایسا مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا۔
نیک لوگ یکے بعد دیگر گزر جائیں گے اور پھر گھٹیا جَو یا گھٹیا کھجور کی طرح کے کچھ لوگ رہ جائیں گے، جن کی اللہ تعالی کو کچھ بھی پروا نہ ہو گی۔
قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ ایک کھلی صحرائی جگہ پر پہنچے گا تو ان کے اول و آخر (سب کو) دھنسا دیا جائے گا۔
ایک صبح رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا تو اس طرح اس کی ذلت و حقارت اور اس کے فتنے کی بڑائی بیان کی کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں ہے۔
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ سرزمینِ حجاز سے ایک بہت بڑی آگ نہ نکل آئے جو بُصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں روشن کر دے گی۔
میری امت کے آخری دور میں ایک خلیفہ آئے گا جو مال کو لپ بھر بھر کر خرچ کرے گا اور اس کا کوئی حساب نہیں رکھے گا۔
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کر لو، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، چہرے سرخ ہوں گے، ناک چھوٹی اور چپٹی ہو گی اوران کے چہرے ایسے ہوں گے کہ گویا چمڑا لگی ڈھال ہو، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کر لو، جن کے جوتے بال کے بنے ہوئے ہوں گے۔
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایرانیوں کے شہر خوز اور کرمان والوں سے جنگ نہ کر لو گے۔ چہرے ان کے سرخ ہوں گے۔ ناک چپٹی ہو گی۔ آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے اور ان کے جوتے بالوں والے ہوں گے۔
اے خالد! عنقریب میرے بعد بہت سارے نئے واقعات، فتنے اور اختلاف جنم لیں گے۔ اگر تم میں اللہ کے نزدیک قاتل کے بجائے مقتول بندہ بننے کی استطاعت ہو تو ایسا ہی کرنا۔
تم پہلے تو عرب کے جزیرہ میں (کافروں سے) جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ اس کو فتح کر دے گا۔ پھر فارس (ایران) سے جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر بھی فتح کر دے گا ،پھر روم والوں سے، اللہ تعالیٰ روم کو بھی فتح کر دے گا۔ پھر دجال سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ اس کو بھی فتح کر دے گا۔
میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم سے محفوظ رکھا ہے۔ ایک گروہ وہ جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور ایک گروہ وہ ہو گا جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گا۔
جس نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں حفظ کر لیں، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔" ایک روایت ہے: "سورہ کہف کے آخر کی۔