عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «لا تقومُ الساعةُ حتى تخرجَ نارٌ من أرض الحِجاز تُضيءُ أعناقَ الإبل ببُصْرى».
[صحيح.] - [متفق عليه.]
المزيــد ...

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ سرزمینِ حجاز سے ایک بہت بڑی آگ نہ نکل آئے جو بُصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں روشن کر دے گی“۔
صحیح - متفق علیہ

شرح

قیامت تب تک نہ آئے گی جب تک کہ مکہ و مدینہ اور اس کے گرد و نواح سے ایسی آگ نمودار نہ ہو جائے جو شام میں واقع بُصریٰ شہر میں موجود اونٹوں کی گردنیں روشن کر دے گی۔ مدینہ میں سن چھ سو چَوّن (654) ہجری میں ایک آگ ظاہر ہوئی تھی جو بہت بڑی تھی۔ یہ مدینہ کے مشرقی جانب مقامِ حرہ کے پیچھے سے نمودار ہوئی تھی۔ شام اور باقی تمام علاقوں کے رہنے والے لوگ اس آگ کے بارے میں تواتر کے ساتھ جانتے ہیں اور اس وقت کے علماء نے بھی اپنی کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا ہے جیسے امام نووی، امام قرطبی اور امام ابو شامہ رحمہم اللہ۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ایغور
ترجمہ دیکھیں