عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ قَدْ تَحْلُبُ ثَدْيَهَا تَسْقِي، إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ، فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُرَوْنَ هَذِهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟» قُلْنَا: لاَ، وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَلَّا تَطْرَحَهُ، فَقَالَ: «لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا».
[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري: 5999]
المزيــد ...
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
اللہ کے نبی ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے۔ قیدیوں میں ایک عورت نظر آئی جو (بچے کو) دودھ پلانے کے لیے اپنی چھاتی کو نچوڑ رہی تھی۔ قیدیوں میں کوئی بچہ نظر آتا، تو اسے اٹھا لیتی، اپنے سینے سے لگا لیتی اور دودھ پلانے لگتی۔ لہذا اللہ کے نبی ﷺ نے ہم سے پوچھا : "کیا تم تصور کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟" ہم نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم، بچانے کی طاقت رکھتے ہوئے تو نہيں ڈال سکتی۔ اس پر آپ ﷺ نےفرمایا : "یقینا اللہ اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ رحم کرنے والا ہے، جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہے"۔
[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري - 5999]
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس قبیلہ ہوازن کے کچھ قیدی لائے گئے۔ قیدیوں میں ایک عورت نظر آئی جو اپنے بچے کو تلاش رہی تھی۔ جیسے ہی کوئی بچہ ملتا، اسے اٹھا لیتی اور دودھ پلانے لگتی کہ چھاتی میں دودھ جمع ہونے کی وجہ سے پریشانی کی شکار تھی۔ اسی درمیان اسے قیدیوں میں اپنا بچہ مل گیا، تو اسے اٹھا لیا، سینے سے لگا لیا اور دودھ پلانے لگی۔ یہ دیکھ کر اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ سے پوچھا : کیا تم تصور کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ ہم نے جواب دیا : طاقت رہتے ہوئے تو کبھی نہيں ڈال سکتی۔ چنانچہ آپ نے کہا : اللہ اپنے مومن بندوں پر اس سے کہيں زیادہ مہربان ہے، جتنا یہ اپنے بچے پر ہے۔