+ -

عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا شَدِيدًا، فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ وَالحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ.

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري: 1296]
المزيــد ...

ابو بردہ بن ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
ابو موسی اشعری رضی اللہ بہت زیادہ بیمار ہو گئے۔ (بیماری اتنی سخت تھی کہ) بے ہوش ہو گئے۔ ان کا سر ان کے گھر کی ایک عورت کی گود میں تھا، (جو اونچی آواز میں رو رہی تھی) اور وہ (بے ہوشی کے سبب) اسے کوئی جواب نہ دے سکے۔ لہذا جب ہوش میں آئے تو فرمایا: میں ان تمام لوگوں سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، جن سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے براءت کا اظہار کیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مصیبت کے وقت چیخ چیخ کر رونے والی، بال منڈوانے والی اور کپڑے پھاڑنے والی عورتوں سے براءت کا اظہار کیا ہے۔

[صحیح] - [متفق علیہ] - [صحيح البخاري - 1296]

شرح

ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو موسی رضی اللہ عنہ ایک بار بہت زیادہ بیمار ہو گئے۔ بیماری اتنی سخت تھی کہ نوبت بے ہوشی تک پہنچ گئی۔ اس وقت ان کا سر ان کے گھر کی کسی عورت کی گود میں تھا، جو ان کی بیماری دیکھ کر چیخ چیخ کر رونے اور نوحہ کرنے لگی۔ لیکن بے ہوشی کے سبب وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ لہذا ہوش میں آئے تو فرمایا : میں ان تمام لوگوں سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، جن سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے براءت کا اظہار کیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے درج ذیل عورتوں سے براءت کا اظہار کیا ہے: صالقہ : مصیبت کے وقت چیخ چیخ کر رونے والی عورت۔ حالقہ : مصیبت کے وقت بال منڈوانے والی عورت۔ شاقہ: مصیبت کے وقت کپڑے پھاڑنے والی عورت۔ کیوں کہ یہ دور جاہلیت کے امور ہیں۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ مصیبتوں کے وقت صبر سے کام لیا جائے اور اللہ سے اجر وثواب کی امید رکھی جائے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. مصیبت کے وقت کپڑا پھاڑنے، بال منڈوانے اور بلند آواز سے رونے کی ممانعت۔ یہ ایک کبیرہ گناہ ہے۔
  2. اگر نوحہ کی شکل نہ ہو اور آواز اونچی نہ کی جائے، تو غم کرنا اور رونا حرام نہيں ہے کیوں کہ یہ اللہ کے فیصلے پر صبر کرنے کے منافی نہیں ہے۔ یہ دراصل رحمت ومہربانی کا اظہار ہے۔
  3. اللہ کے تکلیف دہ فیصلوں پر قول و فعل کے ذریعے ناراضگی کا اظہار کرنا حرام ہے۔
  4. مصیبت کے وقت صبر کرنا واجب ہے۔
ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان ایغور بنگالی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان روسی زبان بوسنیائی زبان سنہالی ہندوستانی چینی زبان فارسی زبان ویتنامی تجالوج کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی تھائی پشتو آسامی السويدية الأمهرية الهولندية الغوجاراتية النيبالية الدرية الرومانية المجرية الموري ภาษามาลากาซี ภาษากันนาดา الولوف الأوكرانية الجورجية المقدونية الخميرية الماراثية
ترجمہ دیکھیں
مزید ۔ ۔ ۔