1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث ”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم! میں تو یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“

عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اسْمُهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَكَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا، وَكَانَ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ، فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ القَوْمِ: اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَلْعَنُوهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ».

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
نبی ﷺ کے عہد میں ایک شخص تھے جن کا نام عبداللہ تھا اور ان کا لقب حمار (گدھا) تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو ہنسایا کرتا تھے۔ نبی ﷺ نے ان کو شراب نوشی کی وجہ سے کوڑے لگوائے تھے۔ ایک دن ان کو پھر اسی حالت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور ان کو کوڑے مارے گئے۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ! اس پر لعنت فرما، اسے شراب نوشی کی حالت میں کتنا زیادہ لایا جاتا ہے؟“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم! میں تو یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“

صحيح رواه البخاري صحيح البخاري - 6780

شرح

نبی ﷺ کے عہد میں عبداللہ نامی ایک شخص تھے، جن کا لقب حمار تھا۔ وہ اپنی بعض باتوں سے نبی ﷺ کو ہنسایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو شراب نوشی کی پاداش میں کوڑے لگوائے تھے۔ چنانچہ ایک دن پھر ان کو لایا گیا جبکہ انہوں نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور ان کو کوڑے مارے گئے۔ تو حاضرین میں سے ایک شخص نے ان کو برا بھلا کہا، اور بولا: اللہ اس پر لعنت کرے، اسے کتنی بار شراب نوشی کی حالت میں لایا جاتا ہے!؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم، میں تو یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“

حدیث کے بعض فوائد

  1. گناہ کے ارتکاب اور گناہ کرنے والے کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے ثابت ہونے میں کوئی تضاد نہیں ہے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ مذکورہ شخص، اس سے سرزد ہونے والے عمل کے باوجود، اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔
  2. کبیرہ گناہ کا مرتکب اگر اس پر اصرار کی حالت میں مر جائے تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے تحت ہے، چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے تو عذاب دے، اور اہل اسلام میں سے کوئی بھی ہمیشہ ہمیش کے لیے دوزخ میں نہیں رہے گا۔
  3. کسی متعین شراب نوش پر لعنت کرنا مکروہ ہے؛ اس احتمال کی وجہ سے کہ لعنت کے لاحق ہونے میں کوئی امر مانع ہو؛ اور اس لیے کہ کسی متعین شخص پر لعنت کرنا اور اس کے خلاف بد دعا کرنا اسے سرکشی پر ابھار سکتا ہے، یا توبہ کی قبولیت سے مایوس کر سکتا ہے۔
  4. اس وصف سے متصف غیر متعین شخص پر لعنت کرنے کا جواز۔

تراجم کا مشاہدہ

29 زبان
EN English الإنجليزية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TH ไทย التايلندية
AS অসমীয়া الأسامية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
HU Magyar المجرية
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية