عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اسْمُهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَكَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا، وَكَانَ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ، فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ القَوْمِ: اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَلْعَنُوهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ».
[صحيح] - [رواه البخاري] - [صحيح البخاري: 6780]
المزيــد ...
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
نبی ﷺ کے عہد میں ایک شخص تھے جن کا نام عبداللہ تھا اور ان کا لقب حمار (گدھا) تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو ہنسایا کرتا تھے۔ نبی ﷺ نے ان کو شراب نوشی کی وجہ سے کوڑے لگوائے تھے۔ ایک دن ان کو پھر اسی حالت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور ان کو کوڑے مارے گئے۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ! اس پر لعنت فرما، اسے شراب نوشی کی حالت میں کتنا زیادہ لایا جاتا ہے؟“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم! میں تو یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“
[صحيح] - [رواه البخاري] - [صحيح البخاري - 6780]
نبی ﷺ کے عہد میں عبداللہ نامی ایک شخص تھے، جن کا لقب حمار تھا۔ وہ اپنی بعض باتوں سے نبی ﷺ کو ہنسایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو شراب نوشی کی پاداش میں کوڑے لگوائے تھے۔ چنانچہ ایک دن پھر ان کو لایا گیا جبکہ انہوں نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور ان کو کوڑے مارے گئے۔ تو حاضرین میں سے ایک شخص نے ان کو برا بھلا کہا، اور بولا: اللہ اس پر لعنت کرے، اسے کتنی بار شراب نوشی کی حالت میں لایا جاتا ہے!؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم، میں تو یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“