عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:
«لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً».

[صحيح] - [رواه البخاري] - [صحيح البخاري: 4425]
المزيــد ...

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
’’وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، جس نے اپنے معاملات کی ذمہ داری کسی عورت کو سونپ دی ہو۔‘‘

[صحيح] - [رواه البخاري] - [صحيح البخاري - 4425]

شرح

اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جو اپنے معاملات کی باگ ڈور کسی عورت کو تھما دے، چاہے وہ قضا کا معاملہ ہو، عمومی حکمرانی ہو یا کوئی وزارت۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. عورتیں امارت اور لوگوں کے درمیان قضا، اور اس طرح کی دیگر عمومی ولایتوں کی ذمہ دار نہیں بن سکتیں، البتہ خصوصی امور جیسے وقف یا یتیموں کی سرپرستی یا کسی مدرسے کا انتظام وغیرہ سنبھالنے میں کوئی حرج نہیں۔
  2. عورت کی کمزوری اور کمی کا بیان کہ وہ عمومی ولایتوں میں مرد کی شریک نہیں ہوسکتی، اور اس کا اس طرح کے منصب پر فائز ہونا نا کامی ونا مرادی کا سبب ہے۔
  3. اللہ نے عورت کو پیدا فرمایا اور اس کی فطرت کو مرد کی فطرت سے مختلف بنایا ہے۔ چنانچہ کچھ امور ایسے ہیں جنہیں عورت کا انجام دینا اس کی مخصوص فطرت کے باعث مناسب نہیں، ۔اسی طرح کچھ امور ایسے ہیں جنہیں مرد کا انجام دینا اس کی مخصوص فطرت کے باعث مناسب نہیں ہے۔
  4. منفی فلاح: فلاح شریعت کی اصطلاح میں دنیا وآخرت کی خیر وبھلائی کا حصول ہے، سلطنت کی خوشحالی سے یہ لازم نہیں آتا کہ قوم اللہ کی رضامندی پر ہو، جو شخص اللہ کی اطاعت میں نہیں، تو وہ فلاح پانے والوں میں سے نہیں ہے، اگرچہ وہ بظاہر اپنے دنیاوی معاملات میں بظاہر بہترین حالت میں ہی کیوں نہ ہو۔
  5. اس حدیث میں عورت کی تنقیص نہیں ہے، بلکہ یہ اس کی صلاحیتوں کی صحیح اور مناسب توجیہ ہے۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (31)
مزید ۔ ۔ ۔