1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث ”جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارا، اس کے لیے اللہ نے جہنم کو واجب اور جنت کو حرام کردیا ہے“۔ ایک شخص نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! چاہے وہ چیز تھوڑی سی ہی کیوں نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چہ پیلو کے درخت کی ایک چھوٹی سی ٹہنی ہی کیوں نہ ہو“۔

عن أَبِي أُمَامَةَ إِياسِ بنِ ثَعْلَبَةَ الحَارِثِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ».

ابو امامہ ایاس بن ثعلبہ حارثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
”جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارا، اس کے لیے اللہ نے جہنم کو واجب اور جنت کو حرام کردیا ہے“۔ ایک شخص نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! چاہے وہ چیز تھوڑی سی ہی کیوں نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چہ پیلو کے درخت کی ایک چھوٹی سی ٹہنی ہی کیوں نہ ہو“۔

صحيح رواه مسلم صحيح مسلم - 137

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جان بوجھ کر کسی مسلمان کا حق چھیننے کے لیے اللہ کی جھوٹی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ اس سے انسان جہنم کا مستحق بن جاتا ہے اور جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ دراصل کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ آپ کی بات سننے کے بعد ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! جس چيز کے لیے قسم کھائی گئی ہے، وہ تھوڑی ہو تب بھی یہی سزا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا: وہ مسواک کے لیے استعمال میں آنے والی پیلو کے پیڑ کی ایک لکڑی ہو، تب بھی یہی سزا ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. اس حدیث میں دوسرے کا حق مارنے سے خبردار کیا گیا ہے اور صاحب حق کو اس کا حق دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ حق چاہے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ ساتھ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ حاکم کا غلط حکم کسی انسان کے لیے ایسی چیز کو مباح نہیں کرتا، جو اس کا نہ ہو۔
  2. نووی کہتے ہيں: مسلمانوں کا حق مارنا سخت حرام ہے اور اس معاملے میں چھوٹے اور بڑے حق کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اگر چہ پیلو کے درخت کی ایک چھوٹی سی ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔"
  3. نووی کہتے ہيں: یہ سزا اس شخص کے لیے ہے جو کسی مسلمان کا حق مارے اور توبہ کرنے سے پہلے مر جائے۔ اگر کسی نے توبہ کر لی، اپنے کیے پر نادم ہوا، حق والے کو اس کا حق لوٹا دیا، معافی تلافی کرا لی اور دوبارہ اس گناہ کو نہ کرنے کا پکا ارادہ کر لیا، تو اس کا گناہ ختم ہو گیا۔
  4. قاضی کہتے ہيں: یہاں مسلمانوں کا ذکر بطور خاص اس لیے ہوا ہے کہ وہی شریعت کے مخاطب اور اس پر عمل کرنے والے عام لوگ ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غیر مسلم کا حق چھینا جا سکتا ہے۔ مسلمان کی طرح غیر مسلم کا حق بھی چھینا نہیں جا سکتا۔
  5. نووی کہتے ہیں: کذب یعنی جھوٹ کسی چیز کے بارے میں اس کی حقیقت کے برخلاف بتانے کا نام ہے۔ خواہ بتانے کا کام عمدًا ہو یا سہوًا۔ اس چیز کا تعلق ماضی سے ہو یا مستقبل سے۔

تراجم کا مشاہدہ

46 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
NE नेपाली النيبالية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية