عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَنَمَةَ، قَالَ:
رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ دَخَلَ المَسْجِدَ فَصَلَّى، ‌فَأَخَفَّ ‌الصَّلَاةَ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ، قُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا اليَقْظَانِ، لَقَدْ خَفَّفْتَ، قَالَ: فَهَلْ رَأَيْتَنِي انْتَقَصْتُ مِنْ حُدُودِهَا شَيْئًا؟! قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِنِّي بَادَرْتُ بِهَا سَهْوَةَ الشَّيْطَانِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: « إِنَّ الْعَبْدَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ، مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْهَا إِلَّا عُشْرُهَا، تُسْعُهَا، ثُمُنُهَا، سُبُعُهَا، سُدُسُهَا، خُمُسُهَا، رُبُعُهَا، ثُلُثُهَا نِصْفُهَا».

[حسن] - [رواه أحمد] - [مسند أحمد: 18894]
المزيــد ...

عبد اللہ بن عَنَمَہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، انہوں نے ہلکی نماز پڑھی۔ جب وہ باہر نکلے تو میں ان کے پاس گیا اور کہا: اے ابو الیقظان! آپ نے بہت ہلکی نماز پڑھی ہے۔ انہوں نے کہا: تو کیا تم نے مجھے اس کے ارکان میں کوئی کمی کرتے ہوئے دیکھا؟! میں نے عرض کیا: نہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے تو اس کے ذریعے شیطان کی غفلت پر سبقت کی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’بندہ نماز پڑھتا ہے‘ اس کے لیے نماز کا صرف دسواں حصہ‘ نواں حصہ‘ آٹھواں‘ ساتواں‘ چھٹا‘ پانچواں‘ چوتھا‘ تیسرا‘ اور نصف حصہ ہی لکھا جاتا ہے‘‘۔

[حسن] - [رواه أحمد] - [مسند أحمد - 18894]

شرح

عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما مسجد میں داخل ہوئے اور ایک ہلکی سی نفل نماز پڑھی۔ جب وہ مسجد سے نکلے، تو عبداللہ بن عَنَمَہ ان کے پیچھے پیچھے گئے اور ان سے کہا: "اے ابو الیقظان! میں نے آپ کو اپنی نماز مختصر کرتے ہوئے دیکھا ہے! عمار نے کہا: تو کیا تم نے مجھے اس کے ارکان، واجبات یا شرائط میں سے کسی چیز میں کمی کرتے ہوئے دیکھا؟! انہوں نے کہا: نہیں، (عمار نے) کہا: میں نے اسے اس لیے مختصر کیا تاکہ شیطان مجھے غافل نہ کر دے۔ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بندہ نماز پڑھتا ہے، اور اس کے اجر میں سے اس کے لیے صرف دسواں، یا نواں، یا آٹھواں، یا ساتواں، یا چھٹا، یا پانچواں، یا چوتھا، یا تیسرا یا نصف حصہ ہی لکھا جاتا ہے“۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. اسلاف کرام ایک دوسرے کو نصیحت کرنے کے حریص تھے۔
  2. نکیر کرنے سے پہلے تحقیق اور سوال کرنا چاہیے۔
  3. سوال اور اشکال کے جواب میں نبی ﷺ کے قول پر اکتفا کرنا۔
  4. خشوع وخضوع اور تدبر میں کمی کے سبب نماز کے ثواب میں کمی۔
  5. نماز میں خشوع وخضوع اور اللہ تعالیٰ کے سامنے حضورِ قلب کی پرزور تاکید اور شدید ترغیب۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (28)
مزید ۔ ۔ ۔