عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَنَمَةَ، قَالَ:
رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ دَخَلَ المَسْجِدَ فَصَلَّى، فَأَخَفَّ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ، قُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا اليَقْظَانِ، لَقَدْ خَفَّفْتَ، قَالَ: فَهَلْ رَأَيْتَنِي انْتَقَصْتُ مِنْ حُدُودِهَا شَيْئًا؟! قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِنِّي بَادَرْتُ بِهَا سَهْوَةَ الشَّيْطَانِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: « إِنَّ الْعَبْدَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ، مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْهَا إِلَّا عُشْرُهَا، تُسْعُهَا، ثُمُنُهَا، سُبُعُهَا، سُدُسُهَا، خُمُسُهَا، رُبُعُهَا، ثُلُثُهَا نِصْفُهَا».
المزيد
عبد اللہ بن عَنَمَہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، انہوں نے ہلکی نماز پڑھی۔ جب وہ باہر نکلے تو میں ان کے پاس گیا اور کہا: اے ابو الیقظان! آپ نے بہت ہلکی نماز پڑھی ہے۔ انہوں نے کہا: تو کیا تم نے مجھے اس کے ارکان میں کوئی کمی کرتے ہوئے دیکھا؟! میں نے عرض کیا: نہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے تو اس کے ذریعے شیطان کی غفلت پر سبقت کی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’بندہ نماز پڑھتا ہے‘ اس کے لیے نماز کا صرف دسواں حصہ‘ نواں حصہ‘ آٹھواں‘ ساتواں‘ چھٹا‘ پانچواں‘ چوتھا‘ تیسرا‘ اور نصف حصہ ہی لکھا جاتا ہے‘‘۔