عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
أَنَّ رَجُلًا مِنَ اليَهُودِ قَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَؤُونَهَا، لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ اليَهُودِ نَزَلَتْ لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ عِيدًا، قَالَ: أَيُّ آيَةٍ؟ قَالَ: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا} [المائدة: 3] قَالَ عُمَرُ: قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ، وَالمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ.
[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري: 45]
المزيــد ...
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
ایک یہودی شخص نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین، آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے جسے آپ لوگ پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے، انہوں نے پوچھا: کون سی آیت؟ اس نے کہا: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا} [المائدة: 3]۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس دن کو بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اس جگہ کو بھی جہاں یہ نبی ﷺ پر نازل ہوئی، جب کہ آپ ﷺ جمعہ کے دن عرفہ میں قیام فرما تھے۔
[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري - 45]
ایک یہودی شخص امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا: ”آپ کی کتاب قرآن میں ایک آیت ہے جسے آپ لوگ پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہود کی جماعت پر ہماری کتاب تورات میں نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کون سی آیت؟“ ان لوگوں نے کہا: ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام بطور دین پسند کر لیا۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس دن اور اس جگہ کو جانتے ہیں جہاں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ یہ عید کے دن یعنی جمعہ کو نبی ﷺ پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ عرفات میں کھڑے تھے، اور یہ دونوں دن مسلمانوں کے نزدیک بڑے عظمت والے ہیں۔