عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُما قَالَ:
إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44] وَ {فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} [المائدة: 45] وَ {فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47] ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنْزَلَهَا اللهُ فِي الطَّائِفَتَيْنِ مِنَ اليَهُودِ، وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ قَهَرَتِ الأُخْرَى فِي الجَاهِلِيَّةِ، حَتَّى ارْتَضَوْا وَاصْطَلَحُوا عَلَى أَنَّ كُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَتْهُ العَزِيزَةُ مِنَ الذَّلِيلَةِ فَدِيَتُهُ خَمْسُونَ وَسْقًا، وَكُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَتْهُ الذَّلِيلَةُ مِنَ العَزِيزَةِ فَدِيَتُهُ مِائَةُ وَسْقٍ، فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ، وَذَلَّتِ الطَّائِفَتَانِ كِلْتَاهُمَا لِمَقْدَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ورَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَمْ يَظْهَرْ، وَلَمْ يُوطِئْهُمَا عَلَيْهِ، وَهُوَ فِي الصُّلْحِ، فَقَتَلَتِ الذَّلِيلَةُ مِنَ العَزِيزَةِ قَتِيلًا، فَأَرْسَلَتِ العَزِيزَةُ إِلَى الذَّلِيلَةِ: أَنِ ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِمِائَةِ وَسْقٍ، فَقَالَتِ الذَّلِيلَةُ: وَهَلْ كَانَ هَذَا فِي حَيَّيْنِ قَطُّ دِينُهُمَا وَاحِدٌ، وَنَسَبُهُمَا وَاحِدٌ، وَبَلَدُهُمَا وَاحِدٌ، دِيَةُ بَعْضِهِمْ نِصْفُ دِيَةِ بَعْضٍ؟ إِنَّا إِنَّمَا أَعْطَيْنَاكُمْ هَذَا ضَيْمًا مِنْكُمْ لَنَا، وَفَرَقًا مِنْكُمْ، فَأَمَّا إِذْ قَدِمَ مُحَمَّدٌ فَلَا نُعْطِيكُمْ ذَلِكَ، فَكَادَتِ الحَرْبُ تَهِيجُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ ارْتَضَوْا عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ ذَكَرَتِ العَزِيزَةُ، فَقَالَتْ: وَاللهِ مَا مُحَمَّدٌ بِمُعْطِيكُمْ مِنْهُمْ ضِعْفَ مَا يُعْطِيهِمْ مِنْكُمْ، وَلَقَدْ صَدَقُوا، مَا أَعْطَوْنَا هَذَا إِلَّا ضَيْمًا مِنَّا، وَقَهْرًا لَهُمْ، فَدُسُّوا إِلَى مُحَمَّدٍ مَنْ يَخْبُرُ لَكُمْ رَأْيَهُ: إِنْ أَعْطَاكُمْ مَا تُرِيدُونَ حَكَّمْتُمُوهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِكُمْ حَذِرْتُمْ فَلَمْ تُحَكِّمُوهُ، فَدَسُّوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنَ المُنَافِقِينَ لِيَخْبُرُوا لَهُمْ رَأْيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ اللهُ رَسُولَهُ بِأَمْرِهِمْ كُلِّهِ وَمَا أَرَادُوا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الذِينَ قَالُوا آمَنَّا} [المائدة: 41] إِلَى قَوْلِهِ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47] ثُمَّ قَالَ فِيهِمَا: وَاللهِ نَزَلَتْ، وَإِيَّاهُمَا عَنَى الله عَزَّ وَجَلَّ.
[حسن] - [رواه أحمد] - [مسند أحمد: 2212]
المزيــد ...
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نازل فرمایا: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44] اور {فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} [المائدة: 45] اور {فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47]۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ (آیات) یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے میں نازل فرمائیں۔ ان میں سے ایک نے دورِ جاہلیت میں دوسرے پر غلبہ پا لیا تھا، یہاں تک کہ وہ اس بات پر راضی اور متفق ہو گئے کہ غالب گروہ اگر مغلوب گروہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کی دیت پچاس وسق ہوگی، اور اگر مغلوب گروہ غالب گروہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کی دیت سو وسق ہوگی۔ چنانچہ وہ اسی پر قائم رہے یہاں تک کہ نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے۔ رسول اللہ ﷺ کی آمد پر دونوں ہی گروہ کمزور پڑ گئے، اس وقت رسول اللہ ﷺ کو سیاسی غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا، اور نہ ہی آپ نے انہیں زیر کیا تھا، بلکہ آپ صلح کی حالت میں تھے۔ پھر مغلوب گروہ نے غالب گروہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ تو غالب گروہ نے مغلوب گروہ کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس سو وسق بھیجو۔ اس پر مغلوب گروہ نے کہا: کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ دو قبیلوں کا دین ایک ہو، نسب ایک ہو، اور شہر ایک ہو، (پھر بھی) ایک کی دیت دوسرے کی دیت سے آدھی ہو؟ ہم نے تو یہ تمہیں تمہارے ظلم اور خوف کی وجہ سے دیا تھا۔ لیکن اب جب محمد ﷺ تشریف لے آئے ہیں تو ہم تمہیں یہ نہیں دیں گے۔ اس پر ان کے درمیان جنگ چھڑنے ہی والی تھی، پھر وہ اس بات پر راضی ہو گئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے درمیان منصف بنا لیں۔ پھر غالب گروہ کو خیال آیا اور انہوں نے آپس میں کہا: اللہ کی قسم! محمد ﷺ تمہارے حق میں ان کے خلاف دوگنی دیت کا فیصلہ نہیں کریں گے۔ اور انہوں نے یعنی مغلوب گروہ نے سچ ہی کہا، انہوں نے ہمیں یہ آدھی دیت صرف ہمارے ظلم اور ان پر ہمارے غلبے کی وجہ سے دی تھی۔ لہٰذا تم محمد ﷺ کے پاس کسی کو خفیہ طور پر بھیجو جو تمہارے لیے ان کی رائے معلوم کرے۔ اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ دیں تو انہیں حَکَم مان لینا، اور اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ دیں تو ان سے بچنا اور انہیں حَکَم نہ بنانا۔ چنانچہ انہوں نے منافقین میں سے کچھ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس خفیہ طور پر بھیجا تاکہ وہ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی رائے معلوم کریں۔ چنانچہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو اللہ نے اپنے رسول کو ان کے سارے معاملے اور ان کے ارادے سے آگاہ فرما دیا۔ تب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الذِينَ قَالُوا آمَنَّا} [المائدة: 41] سے لے کر اپنے اس فرمان تک: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47]۔ پھر انہوں نے ان دونوں گروہوں کے بارے میں فرمایا: اللہ کی قسم! یہ آیات انہی کے بارے میں نازل ہوئیں، اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مراد یہی دونوں تھے۔
[حسن] - [رواه أحمد] - [مسند أحمد - 2212]
مدینے کے یہودیوں میں بنو قریظہ اور بنو نضیر تھے۔ جاہلیت میں ان میں سے ایک قبیلہ دوسرے پر غالب آ گیا تھا۔ چنانچہ ان کے مابین یہ صلح طے پائی کہ غالب قبیلے کے ہاتھوں قتل ہونے والے مغلوب قبیلے کے ہر فرد کی دیت صرف پچاس وسق ہوگی، جب کہ مغلوب قبیلے کے ہاتھوں قتل ہونے والے غالب قبیلے کے ہر فرد کی دیت اس سے دوگنی یعنی سو وسق ہوگی۔ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ وہ اسی حال پر قائم رہے یہاں تک کہ نبی ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے، اور دونوں گروہ آپ ﷺ کی تشریف آوری پر آپ کے تابع ہو گئے۔ حالانکہ اس وقت آپ ﷺ نے ابھی تک اپنے دشمنوں پر فتح نہیں پائی تھی اور نہ ہی انہیں اپنی اطاعت پر مجبور کیا تھا؛ کیونکہ یہ ہجرت کے بالکل ابتدائی ایام کی بات تھی اور آپ ﷺ (ان کے ساتھ) صلح کے مرحلے میں تھے۔ اس درمیان کمزور قبیلے کے ہاتھوں طاقتور قبیلے کا ایک شخص قتل ہوگیا، اس پر طاقتور قبیلے نے کمزور قبیلے کو پیغام بھیجا کہ معاہدے کے مطابق ہمیں سو وسق بھیجو۔ کمزور قبیلے نے کہا: کیا کبھی دو ایسے قبیلوں میں بھی ایسا ہوا ہے جن کا دین، نسب اور وطن ایک ہو، (پھر بھی) ان میں سے ایک کی دیت دوسرے کی دیت سے آدھی ہو؟! ہم نے تو تمہیں یہ محض تمہارے ظلم اور تم سے خوف کی وجہ سے دیا تھا۔ لیکن اب جب کہ محمد ﷺ تشریف لاچکے ہیں، ہم تمہیں یہ ہرگز نہیں دیں گے۔ چنانچہ قریب تھا کہ ان دونوں کے درمیان جنگ چھڑ جائے، پھر وہ اس بات پر راضی ہو گئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے درمیان حَکَم بنائیں۔ پھر طاقتور قبیلے نے غور کیا اور کہا: اللہ کی قسم! محمد ﷺ تمھیں ان کے مقابلے میں دو گنا نہیں دیں گے جتنا وہ تمہیں دیتے ہیں۔ اور انہوں نے سچ ہی کہا، انہوں نے یہ مال ہمیں محض ہمارے ظلم اور ان پر ہماری زبردستی کی وجہ سے ہی دیا تھا۔ لہٰذا تم لوگ محمد ﷺ کے پاس خفیہ طور پر کسی کو بھیجو جو تمہارے لیے ان کی رائے معلوم کرکے آئے۔ اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ دیں تو انہیں اپنا حَکَم بنا لینا، اور اگر وہ تمہاری مرضی کے مطابق فیصلہ نہ دیں تو انہیں چھوڑ دینا اور اپنے درمیان حَکَم نہ بنانا۔ چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کی رائے جاننے کے لیے منافقین میں سے کچھ لوگوں کو خفیہ طور پر رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی اور اپنے رسول کو ان کے تمام معاملے اور ان کے ارادوں سے باخبر کر دیا۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے سورہ مائدہ میں اپنا یہ فرمان نازل فرمایا: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الذِينَ قَالُوا آمَنَّا} [المائدة: 41]۔ اپنے اس فرمان تک: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْفَاسِقُونَ} [المائدۃ: 47] پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کی قسم! ان ہی دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: ”اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ کافر ہیں۔“ [المائدة: 44] اور {... وہی لوگ ظالم ہیں۔} [المائدة: 45] اور {...وہی لوگ فاسق ہیں} [المائدة: 47]، اور اللہ عز وجل نے انھی دونوں کو مراد لیا ہے۔