عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [البقرة: 284]، قَالَ: فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَرَكُوا عَلَى الرُّكَبِ، فَقَالُوا: أَيْ رَسُولَ اللهِ، كُلِّفْنَا مِنَ الأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ، الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالجِهَادَ وَالصَّدَقَةَ، وَقَدِ اُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا؟ بَلْ قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ المَصِيرُ»، قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ المَصِيرُ، فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا القَوْمُ، ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ فِي إِثْرِهَا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ المَصِيرُ} [البقرة: 285]، فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللهُ تَعَالَى، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} [البقرة: 286] " قَالَ: «نَعَمْ» {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} [البقرة: 286] قَالَ: «نَعَمْ» {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ} [البقرة: 286] قَالَ: «نَعَمْ» {وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الكَافِرِينَ} [البقرة: 286] قَالَ: «نَعَمْ».
[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم: 125]
المزيــد ...
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں:
جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ’’آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالی ہی کی ملکیت ہے‘ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ‘ اللہ تعالی اس کا حساب تم سے لے گا۔ پھر جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے‘‘ [البقرة: 284]، تو یہ آیت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر بڑی گراں گزری۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان اعمال کا مکلف کیا گیا جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں، (جیسے) نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ۔ اور (اب) آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے، یہ ہماری طاقت سے باہر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «کیا تم وہی کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے دونوں اہل کتاب نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی؟ بلکہ تم کہو: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف پھرنا ہے»۔ انھوں نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔ جب لوگوں نے (یہ کلمات) پڑھے اور ان کے ساتھ ان کی زبانیں رواں ہو گئیں تو اللہ نے اس کے بعد یہ آیت نازل فرمائی: ’’رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالی کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے‘ یہ سب اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے‘ اس کے رسولوں میں سے سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے‘ انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی‘ ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ [البقرة: 285]۔ جب انھوں نے ایسا کر لیا تو اللہ تعالی نے اسے منسوخ فرما دیا اور اللہ عز و جل نے یہ نازل فرمایا: ’’اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘ جو نیکی وہ کرے وہ اس کے لیے اور جو برائی وہ کرے وہ اس پر ہے‘ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (پھر کہا:) ’’اے ہمارے رب! ہم پر اس طرح بوجھ نہ ڈالنا جس طرح تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (پھر کہا:) ’’اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (پھر کہا:) ’’اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے‘ ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘
[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم - 125]
جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا یہ فرمان نازل فرمایا: {آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالی ہی کی ملکیت ہے} تخلیق، ملکیت، تصرف اور تدبیر کے اعتبار سے، {وَإِنْ تُبْدُوا} یعنی تم ظاہر کرو اور اعلان کرو {مَا فِي أَنْفُسِكُمْ} اس چیز کا جو تمہارے دلوں اور سینوں میں ہے {أَوْ تُخْفُوهُ} یا اسے پوشیدہ رکھو اور اپنے دلوں میں چھپائے رکھو {يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ} تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تم سے اس کا حساب لے گا۔ ”جسے چاہے بخش دے“ اپنے فضل و رحمت کی بنا پر، ”اور جسے چاہے عذاب دے“ اپنے عدل کی بنا پر، ”اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے“ کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی۔ جب صحابہ کرام نے یہ سنا تو یہ بات ان پر بہت شاق گزری، کیونکہ اس میں دل میں آنے والے خیالات پر بھی مواخذہ تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس سے پہلے ہمیں ان جسمانی اعمال کا مکلف کیا گیا تھا جنہیں انجام دینے کی ہم طاقت رکھتے ہیں؛ جیسے نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ۔ لیکن اب آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے اور یہ ہماری طاقت سے باہر ہے۔ تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم بھی ویسا ہی کہنا چاہتے ہو جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کہا تھا کہ ’ہم نے سنا اور نافرمانی کی‘؟ بلکہ یوں کہو: "ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے‘۔“ چنانچہ صحابہ نے اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لیا، اور کہا: ”ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔“ جب مسلمانوں نے اپنی زبانوں سے اس کا اقرار کیا، اور ان کے دل اس کے مطیع ہو گئے؛ تو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور آپ کی امت کے تزکیے کے لیے اپنا یہ فرمان نازل فرمایا: ”آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالمُؤْمِنُونَ“ اور ان کی زبانیں اور دل حکم الہی کے تابع ہو گئے۔ "یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے"۔ بلکہ ہم ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تیرا فرمان سنا اور تیرے حکم کی اطاعت کی، اور اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش اور درگزر طلب کرتے ہیں، اور حساب کے دن تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ جب انہوں نے ایسا کیا اور اللہ کے احکامات کے لیے سمع وطاعت کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہہ دیا جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا؛ تو اللہ نے اس امت کے تئیں تخفیف فرمائی اور اس آیت کو اپنے اس فرمان سے منسوخ فرما دیا: "اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا، اس نے جو نیکی کمائی اس کا ثواب اسی کے لیے ہے، اور اس نے جو گناہ اور برائی کی اس کا وبال اسی پر ہے"، اور اللہ کسی کو دوسرے کے گناہ پر نہیں پکڑتا اور نہ ہی اس کے دل میں آنے والے وسوسوں پر۔ {رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا} اے ہمارے رب! ہمیں نہ پکڑنا، یعنی ہمیں سزا نہ دینا، {إِنْ نَسِينَا} اگر ہم بھول گئے ہوں۔ یعنی ہمیں یاد نہ رہا ہو، {أَوْ أَخْطَأْنَا} یا خطا کی ہو۔ یعنی ہم نے جان بوجھ کر نہیں بلکہ غلطی سے صحیح بات کو چھوڑ دیا ہو، تو اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا: ہاں، میں نے ایسا کر دیا ہے۔ {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا} اے ہمارے رب! اور ہم پر بوجھ نہ ڈال یعنی مشقت اور گرانی نہ ڈال، {كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} جیسا کہ تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا یعنی بنی اسرائیل اور ان کے علاوہ دوسروں پر، تو اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور فرمایا: ہاں، میں نے ایسا کر دیا۔ {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ} یعنی ایسی ذمہ داریاں، آزمائشیں اور معاملات ہم پر نہ ڈال جنہیں اٹھانے سے ہم عاجز ہیں، اللہ نے فرمایا: ہاں، میں نے ایسا کر دیا۔ {وَاعْفُ عَنَّا} ہمارے گناہوں کو مٹا کر ہم سے درگزر فرما، {وَاغْفِرْ لَنَا} ہمارے گناہوں کو بخش دے، ان پر پردہ ڈال دے اور ان سے تجاوز فرما، {وَارْحَمْنَا} اپنی وسیع رحمت سے ہم پر رحم فرما، {أَنْتَ مَوْلَانَا} تو ہی ہمارا مالک اور آقا ہے؛ {فَانْصُرْنَا} حجت اور غلبے کے ساتھ ہماری مدد فرما {عَلَى الْقَوْمِ الكَافِرِينَ} كافروں کے ساتھ قتال اور جہاد میں، تو اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی، اور فرمایا: ہاں، میں نے ایسا کر دیا۔