عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الخِيَارِ قَالَ:
أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ وَهُوَ يُقَسِّمُ الصَّدَقَةَ، فَسَأَلَاهُ مِنْهَا، فَرَفَّعَ فِينَا البَصَرَ وَخَفَّضَهُ، فَرَآنَا جَلْدَيْنِ، فَقَالَ: «إِنَّ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا، وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ، وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ».
[صحيح] - [رواه أبو داود والنسائي] - [سنن أبي داود: 1633]
المزيــد ...
عبید اللہ بن عدی بن الخیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
دو آدمیوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ دونوں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ ﷺ سے صدقہ میں سے مانگا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں اوپر سے نیچے تک دیکھا، اور ہمیں مضبوط اور توانا پایا، پھر فرمایا: ’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دیتا ہوں، لیکن صدقہ کے اس مال میں کسی مال دار کا اور کسی کمانے والے طاقتور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘
[صحيح] - [رواه أبو داود والنسائي] - [سنن أبي داود - 1633]
حجۃ الوداع کے موقع پر دو آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے درخواست کی کہ آپ ﷺ انہیں بھی اس میں سے عطا فرمائیں، تو آپ ﷺ ان کی طرف بار بار دیکھنے لگے تاکہ ان کی حالت معلوم کریں کہ آیا ان کے لیے صدقہ حلال ہے یا نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے دیکھا کہ یہ دونوں تندرست اور توانا ہیں، اور فرمایا: ”اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں صدقے میں سے دے دیتا ہوں، لیکن اس میں کسی ایسے شخص کا کوئی حصہ نہیں جس کے پاس اپنی ضرورت کے بقدر مال ہو، اور نہ ہی اس شخص کا جو کوشش کر کے مال کمانے پر قادر ہو، اگرچہ اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس کی بنا پر وہ امیر شمار ہوتا ہو۔“