عَنْ عِكْرِمَةَ:
أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَرَّقَ قَوْمًا، فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ»، وَلَقَتَلْتُهُمْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ».
[صحيح] - [رواه البخاري] - [صحيح البخاري: 3017]
المزيــد ...
عکرمہ سے روایت ہے:
علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو جلا دیا۔ جب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی اطلاع ملی، تو فرمایا: اگر میں ہوتا، تو ان کو نہ جلاتا، کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "تم لوگ اللہ کے عذاب کے ذریعے عذاب مت دو"، بلکہ میں ان کو قتل کر دیتا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جو اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو"۔
[صحيح] - [رواه البخاري] - [صحيح البخاري - 3017]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کرتے ہوئے اسلام سے مرتد ہونے والے کچھ زندیقوں کو آگ میں جلا دیا، جب اس کی اطلاع عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو انہوں نے ان کے قتل کی تائید کی، لیکن آگ میں جلانے کا انکار کیا۔ اور فرمایا: اگر میں ان کی جگہ ہوتا، تو انہیں آگ سے نہ جلاتا؛ کیونکہ آپ ﷺ نے یہ بات واضح فرمایا کہ آگ کی سزا تو صرف اللہ ہی دیتا ہے، جو آگ کا رب ہے۔ بلکہ انہیں قتل کر دینا ہی کافی ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جو اسلام سے مرتد ہو جائے اور اپنا دین بدل کر کوئی دوسرا دین اختیار کر لے، اسے قتل کر دو۔