عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضيَ اللهُ عنها قَالَتْ:
تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا، أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا -أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ-، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي»، قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ، فَقَالَ: «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ»، وَقَالَتْ: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ.
[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري: 1258]
المزيــد ...
ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
نبی ﷺ کی ایک بیٹی کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: «انھیں تین یا پانچ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ بیری کے پتے اور پانی سے غسل دو اور آخر میں کافور -یا یہ کہا کہ کچھ کافور- کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہوکر مجھے بتا دینا»۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کو خبر دی، تو آپ ﷺ نے ہمیں اپنا حقوہ (ازار) دیا اور فرمایا: «ان کے بدن کو اس سے لپیٹ دو»۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں بنا دیں۔
[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري - 1258]
نبی ﷺ کی بیٹی زینب کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ ان عورتوں کے پاس تشریف لائے جو انھیں غسل دینے والی تھیں اور ان سے فرمایا: انھیں بیری کے پتے اور پانی سے تین یا پانچ مرتبہ یا اگر ضرورت ہو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دو، اور آخری غسل میں کچھ کافور ملا دینا، اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا۔ جب وہ خواتین ان کو غسل دے چکیں تو انہوں نے آپ ﷺ کو اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے اپنا تہ بند (ازار) غسل دینے والیوں کو دیا اور فرمایا: ان کو اس میں لپیٹ دو اور اسے اس کے جسم سے متصل پہلا کپڑا بناؤ۔ پھر ان کے سر کے بالوں کی تین چوٹیاں بنا دی گئیں۔