عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَا مِنَ الأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مَا مِثْلهُ آمَنَ عَلَيْهِ البَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ القِيَامَةِ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:
"ہر نبی کو ایسی نشانیاں دی گئیں جن کی مثل پر لوگ ایمان لائے، اور مجھے جو (معجزہ) دیا گیا ہے وہ وحی ہے جو اللہ نے میری طرف بھیجی ہے، چنانچہ میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے پیروکار ان سب سے زیادہ ہوں گے"۔

صحيح متفق عليه صحيح البخاري - 4981

شرح

نبی ﷺ نے ذکر فرمایا کہ اللہ تعالى نے تمام انبیاء کرام کی تائید فرمائی اور انہیں ایسی خارق عادت آیات اور معجزات عطا فرمائے جن سے آپ کی نبوت پر استدلال کیا جاتا ہے اور جو آپ کے دیکھنے والوں سے آپ کی سچائی پر ایمان لانے کا تقاضا کرتے ہیں، نیز یہ کہ چیلنج کے مقابلے میں وہ عاجز آجاتا ہے، اس طور پر کہ وہ اسے خود سے دفع کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، لیکن بسا اوقات وہ انکار کرتا اور عناد برتتا ہے۔ آپﷺ کا معجزہ اور نشانی وہ قرآن ہے جسے اللہ نے آپ کی طرف وحی کی۔ یہ اپنے کثیر فائدے، عمومی افادیت، دعوت وحجت اور مستقبل کی خبروں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ایک واضح اور دائمی معجزہ ہے۔ چنانچہ اس کی افادیت ہر حاضر وغائب اور ہر موجود اور آئندہ آنے والے کے لیے عام ہو گئی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اس لیے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ پیروکار میرے ہوں گے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. انبیاء کے لیے نشانیوں کا اثبات امتوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے۔
  2. نبی ﷺ کے عظیم معجزے کا بیان۔
  3. نبی ﷺ کی عظمتِ شان اور تمام انبیائے کرام پر آپ ﷺ کی فضیلت وبرتری کا بیان۔
  4. ابن حجر آپ ﷺ کے فرمان ”وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ“ کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سے مراد آپ ﷺ کے معجزات کو اسی میں محصور کرنا نہیں ہے، اور نہ یہ کہ آپ ﷺ کو وہ معجزات عطا نہیں ہوئے جو آپ سے پہلے انبیاء کو دیے گئے تھے، بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ (قرآن) وہ عظیم ترین معجزہ ہے جس کے ذریعہ آپ ﷺ کو دیگر انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے۔
  5. امام نووی فرماتے ہیں: ”فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا“ یہ نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے اس کی خبر مسلمانوں کی قلت کے زمانے میں دی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا، مسلمانوں کو فتوحات عطا کیں اور ان میں برکت ڈالی، یہاں تک کہ مسلمانوں کا معاملہ اس معروف حد تک جا پہنچا اور وسیع ہو گیا، وللہ الحمد۔

تراجم کا مشاہدہ

29 زبان
EN English الإنجليزية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TH ไทย التايلندية
AS অসমীয়া الأسامية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
HU Magyar المجرية
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية