عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ، فَقَالَ:
«إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ القِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ -وَفِي رِوَايَةٍ: النَّارُ- لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ».
[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم: 179]
المزيــد ...
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے درمیان پانچ باتیں کہنے کے لیے کھڑے ہوئے، اور فرمایا:
’’اللہ عزوجل نہیں سوتا، اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے، وہ ترازو کو جھکاتا اور اٹھاتا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کے پاس پیش کیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے -اور ایک روایت میں: آگ ہے- اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال وجمال ان تمام مخلوقات کو جلا دے گا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے گی‘‘۔
[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم - 179]
نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو خطبہ دیتے ہوئے پانچ مکمل جملے ارشاد فرمائے، جو یہ ہیں: پہلاجملہ: اللہ عزوجل سوتا نہیں ہے۔ دوسرا جملہ: اس کی کامل قیّومیت اور مکمل حیات کی وجہ سے اس کے حق میں نیند محال ہے۔ تیسرا جملہ: اللہ تعالیٰ میزان کو جھکاتا اور اٹھاتا ہے؛ بندوں کے ان اعمال کے وزن کے ذریعے جو اس کی طرف بلند ہوتے اور چڑھتے ہیں اور ان کی روزیوں کے وزن کے ذریعے جو زمین کی طرف نازل ہوتی ہیں۔ چنانچہ رزق جو ہر مخلوق کا حصہ اور نصیب ہے، اللہ سبحانہ اسے پست کرکے تنگ کردیتا ہے اور بلند کرکے کشادہ کردیتا ہے۔ چوتھا جملہ: بندوں کے رات کے اعمال اگلے دن سے پہلے اور دن کے اعمال اگلی رات سے پہلے اللہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں؛ چنانچہ نگہبان فرشتے رات کے اعمال اس کے ختم ہونے پر دن کے شروع میں، اور دن کے اعمال اس کے ختم ہونے پر رات کے شروع میں اوپر لے جاتے ہیں۔ پانچواں جملہ: اللہ سبحانہ و تعالی کا حجاب جو اس کے دیدار سے مانع ہے، نور ہے یا آگ۔ اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی کرنوں سے تاحد نگاہ ساری مخلوقات جل کر خاک ہوجائیں؛ چنانچہ اس کے چہرے کی تجلیات اس کا نور، اس کا جلال اور اس کی شان ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اپنے دیدار سے مانع چیز یعنی حجاب کو ہٹا دے اور اپنی مخلوق پر تجلی فرمائے، تو اس کے چہرے کی کرنوں سے تاحد نگاہ اس کی ساری مخلوق جل کر خاک ہوجائے؛ اور اس سے مراد تمام مخلوقات ہیں؛ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کی نگاہ تمام مخلوقات کو محیط ہے۔