میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! نجات کیا ہے؟ فرمایا : "اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اور تمہارا گھر تمہارے لئے کافی ہو اور اپنے گناہ پر رویا کرو۔
اللہ اپنے بندے کی توبہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کا وہ اونٹ اچانک مل جائے جسے بےآب و گیاہ چٹیل میدان میں گم کر بیٹھا ہو۔
’’اللہ عزوجل رات میں اپنا ہاتھ پسارتا ہے، تاکہ دن کا گنہ گار توبہ کر لے اور دن میں اپنا ہاتھ پسارتا ہے، تاکہ رات کا گنہ گار توبہ کرلے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جا ئے۔
اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے گناہوں کو بخشتا رہوں گا، چاہے وہ جتنے بھی ہوں، میں اس کی پرواہ نہيں کروں گا۔
کوئی بھی بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے، پھر کھڑے ہوکر طہارت حاصل کرتا ہے، پھر نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے، تو اللہ اس کی مغفرت کر دیتا ہے
ایک آدمی نے کسی عورت کو بوسہ لے لیا۔ وہ آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کواس کے بارے میں بتایا۔اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾
ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے لہذا مجھ پر حد جاری کیجیے۔
اس بدکاری سے بچو، جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ لیکن جس سے یہ گناہ سرزد ہو جائے، وہ اللہ کے پردے میں چھپ جائے اور اللہ کے سامنے توبہ کرے۔ کیونکہ جو ہمارے سامنے اپنے گناہ کو ظاہر کرے گا، ہم اس پر اللہ عز وجل کی کتاب میں مذکور حد جاری کريں گے"۔
تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا، جس نے ننانوے قتل کیے تھے۔ اس نے پوچھا کہ زمین کے لوگوں میں سب سے زیادہ عالم کون ہے؟ اسے ایک راہب کے بارے میں بتایا گیا، وہ اس کے پاس گیا اور کہا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں، کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ راہب نے کہا کہ نہیں! (تیری توبہ قبول نہ ہو گی) تو اس نے اس راہب کو بھی مار ڈالا۔