عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:
مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا قَطُّ حَتَّى يَدْعُوَهُمْ.

[صحيح] - [رواه أحمد والبيهقي] - [سنن البيهقي: 18232]
المزيــد ...

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی قوم سے قتال نہیں کیا، جب تک کہ انہیں دعوت نہ دے دیتے۔

[صحيح] - [رواه أحمد والبيهقي] - [سنن البيهقي - 18232]

شرح

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کسی قوم سے اس وقت تک قتال نہیں کرتے تھے، جب تک کہ پہلے انہیں اسلام کی دعوت نہ دے دیتے۔ پھر اگر وہ دعوت قبول نہ کرتے تو آپ ان سے قتال کرتے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینا اس صورت میں مشروط ہے جب ان تک اسلام نہ پہنچا ہو۔
  2. نبی ﷺ انہیں اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے۔ اگر وہ انکار کر دیتے، تو آپ ان کے سامنے جزیہ کی پیش کش رکھتے۔ اگر وہ اس سے بھی انکار کرتے، تو آپ ان سے جنگ کرتے، جیسا کہ دیگر احادیث میں آیا ہے۔
  3. جہاد کی حکمت لوگوں کا اسلام میں داخل ہونا ہے، نہ کہ ان کی جانوں، مالوں اور ملکوں کو تباہ کرنا۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (28)
مزید ۔ ۔ ۔