عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ، فَقَالَ:
«أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ؟» قَالَ: فَسَكَتُوا، فَقَالَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا، قَالَ: «خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لاَ يُرْجَى خَيْرُهُ وَلاَ يُؤْمَنُ شَرُّهُ».

[صحيح] - [رواه الترمذي] - [سنن الترمذي: 2263]
المزيــد ...

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا:
”کیا میں تمھیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سے بہترین کون ہے اور بدترین کون؟“ یہ سن کر لوگ خاموش رہے، تو آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ پھر ایک شخص نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! ہمیں ہمارے بہترین اور بدترین لوگوں کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور اس کے شر سے مامون رہا جائے، اور تم میں سے بدترین شخص وہ ہے جس سے خیر کی امید نہ رکھی جائے اور نہ اس کے شر سے مامون رہا جائے۔“

[صحيح] - [رواه الترمذي] - [سنن الترمذي - 2263]

شرح

نبی ﷺ اپنے چند بیٹھے ہوئے صحابہ کے پاس آکر کھڑے ہوئے اور ان سے دریافت فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سے بہتر کون ہے اور بدتر کون ہے؟ اس پر صحابہ کرام اپنے اچھے اور برے میں امتیاز کیے جانے کے ڈر اور رسوائی کے خوف سے خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ان سے تین مرتبہ سوال دہرایا، تو ان میں سے ایک شخص نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! ہمیں ہمارے اچھے اور برے کے بارے میں بتائیے۔ اس پر اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں یہ بات واضح فرمائی: تم میں بہترین شخص وہ ہے، جس سے خیر، احسان اور بھلائی کی امید اور توقع کی جائے اور جس کے شر کا ڈر نہ ہو، چنانچہ اس کی زیادتی، بد سلوکی اور ظلم وتعدی کا ڈر نہ ہو۔ اور تم میں بدترین شخص وہ ہے، جس سے کسی خیر، احسان اور بھلائی کی نہ تو امید کی جائے، نہ توقع رکھی جائے اور نہ ہی اس کی حرص وطمع ہو اور نہ اس کے شر سے امن ہو، بلکہ اس کی زیادتی، بد سلوکی اور ظلم وتعدی کا خوف لگا رہے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. بہترین اور بدترین لوگوں کا بیان۔
  2. دوسروں تک پہنچنے والا نفع اور نقصان، صرف اپنے تک محدود رہنے والے نفع اور نقصان سے زیادہ عظیم ہوتا ہے۔
  3. حسنِ اخلاق اپنانے اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی ترغیب، اور بغاوت، شر اور زیادتی سے بچنے کی تلقین۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (27)
مزید ۔ ۔ ۔