1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فضائل و آداب

حدیث جو شخص بھی ظلما قتل کر دیا جاتا ہے، اس کے قتل کے گناہ کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کو بھی جاتا ہے؛ کیوںکہ قتلِ ناحق کی ریت اسی نے ڈالی تھی۔

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه مرفوعًا: «ليس مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلماً إِلاَّ كَان على ابنِ آدَمَ الأَوَّل كِفْلٌ مِن دمِهَا؛ لِأَنَّه كان أوَّل مَن سَنَّ القَتْلَ».

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”جو شخص بھی ظلما قتل کر دیا جاتا ہے، اس کے قتل کے گناہ کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کو بھی جاتا ہے؛ کیوںکہ قتلِ ناحق کی ریت اسی نے ڈالی تھی“۔

صحیح متفق علیہ

شرح

یہ حدیث اس سبب کو بیان کر رہی ہے، جس کی وجہ سے آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں میں سے ایک پر، اس کے بعد بہائے جانے والے ہرناحق خون کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کہاجاتا ہے کہ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی وجہ سے قتل کیا تھا۔ آدم علیہ السلام کی اولاد میں یہ سب سے پہلے قاتل اور مقتول تھے۔ چنانچہ قابیل کے بعد جو بھی ناحق خون کیا جاتا ہے، اس کے گناہ کا ایک حصہ قابیل کے کھاتے میں جاتا ہے؛ کیوںکہ اسی نے قتل کی ریت ڈالی تھی اور اس کے بعد آنے والا ہر شخص اسی کی اقتدا کرتا ہے۔

تراجم کا مشاہدہ

18 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
SW Kiswahili السواحيلية