عن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهُ صلَّى اللهُ عليهِ وَسَلَّم:
«لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’تم اپنے مرنے والوں کو ”لا الہ الا اللہ“ کی تلقین کرو۔‘‘

صحيح رواه مسلم صحيح مسلم - 916

شرح

اس حدیث میں نبی ﷺ ترغیب دے رہے ہیں کہ ہم جاں کنی کے عالم میں مبتلا شخص کو کلمہ توحید "لا إله إلا الله" کی تلقین کریں، تاکہ وہ اسے اپنی زبان سے ادا کرے اور یہی اس کا آخری کلام ہو۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. جو شخص جاں کنی کے عالم میں ہو اسے (کلمہ توحید کی) تلقین کرنا مستحب ہے۔
  2. جاں کنی کی حالت میں کثرت سے -کلمۂ توحید کی- تلقین کرنا مکروہ ہے، جب وہ ایک بار پڑھ لے یا اس کی طرف سے سمجھ لیا جائے تو اس پر اصرار کرنا بھی مکروہ ہے؛ تاکہ وہ بیزار ہو کر کوئی نامناسب بات نہ کہہ دے۔
  3. نووی کہتے ہیں: جب وہ ایک بار کہہ دے تو اسے دوبارہ تلقین نہ کی جائے، الا یہ کہ وہ اس کے بعد کوئی دوسری بات کرے، تو اسے دوبارہ تلقین کی جائے تاکہ وہی اس کا آخری کلام ہو۔
  4. اس حدیث میں محتضر (وہ شخص جس کی موت کا وقت آچکا ہو) کے پاس حاضر ہونے، اسے یاد دہانی کرانے، تسلی دینے، اس کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے حقوق ادا کرنے کا بیان ہے۔
  5. موت اور تدفین کے بعد قبر پر تلقین کرنا مشروع نہیں ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے ایسا نہیں کیا۔

تراجم کا مشاہدہ

29 زبان
EN English الإنجليزية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TH ไทย التايلندية
AS অসমীয়া الأسامية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
HU Magyar المجرية
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية