عن عائشة -رضي الله عنها- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يدعو بهذه الكلمات: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار، وعذاب النار، ومن شر الغنى والفقر».
[صحيح.] - [رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه.]
المزيــد ...

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا مانگا کرتے تھے ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ شَرِّ الْغِنَى، وَالْفَقْرِ“ اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے، آگ کے عذاب سے نیز مال داری اور محتاجی کے شر سے۔

شرح

نبیٔ مختار ﷺ چار امور سے پناہ مانگا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے“ یعنی وہ فتنہ جو آگ کی طرف لے جانے والا ہو، یہ بھی احتمال ہے کہ آگ کے فتنے سے مُراد زجر اور توبیخ کے لیے جہنم کے داروغے کا وہ سوال کرنا ہو جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اشارہ کیا گیا ہے: ﴿كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ﴾ ”کہ جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟“۔ ”آگ کے عذاب سے“ یعنی میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں جہنمیوں میں سے ہو جاؤں۔ جہنمی لوگ کافر ہیں جنہیں عذاب دیا جائے گا۔ جہاں تک موحد لوگوں کا تعلق ہے تو انہیں آگ سے عذاب نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کی تادیب و تہذیب کی جائے گی۔ ”مالداری کے شر سے“ یعنی اکڑ، سرکشی، حرام طریقے سے مال کا حصول، نافرمانی میں اس کا خرچ کرنا، مال و منصب پر فخر و نمود، مال کو جمع کرنے کی حرص، اسے حلال طریقہ سے حاصل نہیں کرنا اور جہاں خرچ کرنا ہے وہاں مال خرچ کرنے سے روکے رکھنا ہے۔ ”فقیری اور محتاجی کے شر سے“ یعنی وہ محتاجی ہے جس کے ساتھ صبر اور تقویٰ نہ ہو اور اپنے فقر کی وجہ سے وہ ایسی چیزوں میں پھنس جائے جو دیندار اور صاحبِ مروّت لوگوں کے شایانِ شان نہیں۔ ساتھ ہی مال داروں سے حسد کرنا، ان کے مال کی لالچ رکھنا، اس طرح اپنے آپ کو گرا دینا جو عزت و دین کے منافی ہے، اللہ کی تقسیم پر راضی نہ ہونا اور اس کے علاوہ وہ ساری چیزیں جن کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج
ترجمہ دیکھیں