عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «خَلَقَ اللهُ الخلقَ، فلمَّا فرغَ منه، قامت الرَّحِمُ فأخذت بحَقْو الرَّحمن، فقال له: مَه، قالت: هذا مقامُ العائذِ بك من القَطِيعة، قال: ألَا تَرْضَيْنَ أنْ أصِلَ مَن وصلكِ، وأقطعُ مَن قطعكِ، قالت: بلى يا ربِّ، قال: فذاك». قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اقرءوا إن شئتم: {فهل عسيتُم إنْ تولَّيتُم أن تُفْسِدوا في الأرض وتُقَطِّعوا أرحامَكم}، وفي رواية للبخاري: فقال الله: (من وصلك وصلته ومن قطعك قطعته). المزيد
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی، جب وہ اس کی پیدائش سے فارغ ہوا تو رحم نے کھڑے ہو کر رحمٰن کے دامن میں پناہ لے لی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ جو تجھ کو جوڑے میں بھی اسے جوڑوں اور جو تجھے توڑے میں بھی اسے توڑ دوں۔ رحم نے عرض کیا، ہاں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا، پھر ایسا ہی ہو گا۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو: ”فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ“ اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘۔ (سورہ محمد:22)۔اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (ہاں کیا تم اس پر راضی نہیں کہ) میں اس سے جوڑوں گا جو تم سے اپنے آپ کو جوڑے اور اس سے توڑ لوں گا جو تم سے اپنے آپ کو توڑ لے؟۔