1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کا چالیس سال تک کھڑا رہ کر انتظار کرنا اس سے بہتر ہو گا کہ وہ اس کے سامنے سے گزرے۔

عن أبي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأنصاري رضي الله عنه مرفوعاً: «لو يعلم المار بين يدي الْمُصَلِّي ماذا عليه لكان أن يَقِفَ أربعين خيرا له من أن يَمُرَّ بين يديه». قال أَبُو النَّضْرِ: لا أدري: قال أربعين يوما أو شهرا أو سنة.

ابو جُہیم بن حارث بن صَمّہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کا چالیس سال تک کھڑا رہنا اس سے بہتر ہو کہ وہ اس کے سامنے سے گزرے“۔ ابو نضر راوی کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ آیا انہوں نے چالیس دن کہا، یا چالیس ماہ کہا یا پھر چالیس سال کہا۔

صحیح متفق علیہ

شرح

نماز پڑھنے والا اپنے رب کے حضور کھڑا ہو کر اس سے مناجات کررہا ہوتا ہے اور اسے پکار رہا ہوتا ہے۔ جب اس حالت میں کوئی گزرنے والا اس کے آگے سے گزرتا ہے تو وہ مناجات میں انقطاع پیدا کرتا ہے اور نمازی کی عبادت میں خلل ڈالتا ہے۔ اس لیے جو شخص اپنے گزرنے کی وجہ سے نمازی کی نماز میں خلل انداز ہوتا ہے اس کا گناہ بہت بڑا ہے۔ شارع نے بتایا کہ اگر اسے علم ہو جائے کہ اس کے گزرنے پر اُسے کتنا گناہ ملتا ہے تو وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بجائے لمبی مدت تک اپنی جگہ پر کھڑا رہنے کو ترجیح دے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل سے بچنا چاہیے اور اس سے دور رہنا چاہیے۔

تراجم کا مشاہدہ

16 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية