”اے لڑکے! میں تجھے چند (اہم) باتیں بتلاتا ہوں (انھیں یاد رکھ): تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر! وہ تیری حفاظت فرمائے گا۔ تو اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ جب تو مانگے تو صرف اللہ سے مانگ، اور جب تو مدد طلب کرے تو صرف اللہ سے مدد طلب کر
میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو اللہ کا شریک بنائے، حالاں کہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے
جو بندہ سچے دل سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اسے اللہ جہنم پر حرام کر دیتا ہے
اللہ کی طرف سے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر ہے، جو کہتا ہے کہ اے رب! یہ نطفہ ہے۔ اے رب! اب یہ علقہ (جما ہوا خون) بن گیا ہے۔ اے رب! اب مضغہ (گوشت کا ٹکڑا) بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالی چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری كر دے، تو وہ پوچھتا ہے: اے رب! یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟ بدبخت ہو گا یا نیک بخت؟ اس کا رزق کتنا ہے؟ اس کی عمر کتنی ہو گی؟ اس طرح یہ سب باتیں اس کی ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں۔
تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ’’(اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ) میرے کچھ بندوں نے مجھ پر ایمان کے ساتھ صبح کی اور کچھ بندوں نے کفر کے ساتھ صبح کی