عن عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- خطب يوم الفتح فقال: «ألا إن كل مَأْثُرَة كانت في الجاهلية من دم أو مال تُذْكَرُ وَتُدْعَى تحت قدمي، إلا ما كان من سِقَايَةِ الحاج، وسِدَانَة البيت» ثم قال: «ألا إن دِيَةَ الخطإ شِبْه العمد ما كان بالسَّوْطِ والعَصَا مِائة من الإبل: منها أربعون في بُطُونِهَا أولادُهَا».
[صحيح.] - [رواه أبوداود والنسائي وابن ماجه والدارمي وأحمد.]
المزيــد ...

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: ”خون و مال سے متعلق جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان اقدار میرے پاؤں تلے ہیں سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اورخانۂ کعبہ کی دربانی کے"۔ اس کے بعدآپ ﷺ نےفرمایا کہ " آگاہ ہو جاؤ کہ قتلِ خطا کی دیت قتلِ عمد کی سی ہےجو کہ کوڑے یا لاٹھی سے واقع ہو۔ اس کی دیت سو اونٹ ہیں جن میں سے چالیس اونٹنیاں ایسی ہونی چاہیے جن کے پیٹ میں ان کے بچے ہوں“۔
صحیح - اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے آگاہ کیا کہ اہل جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان فخریہ باتیں باطل و ساقط ہیں ماسوا حاجیوں کو پانے پلانے اور بیت اللہ کی خدمت اور اس کی دیکھ بھال کے۔ یعنی یہ دونوں ویسے ہی باقی ہیں جیسے تھیں۔ زمانۂ جاہلیت میں بیت اللہ کی دیکھ بھال بنو عبد الدار کے پاس تھی اور حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری بنو ہاشم کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس پر باقی رکھا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ قتلِ شبہ عمد کی دیت بھی دیتِ مغلظہ ہے جو کہ سو اونٹ ہوتی ہے جن میں سے چالیس حاملہ ہوتے ہیں۔ قتلِ شبہ عمد سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی ایسے آلے سے مارے جس سے عموماً قتل واقع نہ ہوتا ہو جیسے کوڑا اور لاٹھی (اور اس طرح سے مارنے سے آدمی مر جائے)۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی ایغور
ترجمہ دیکھیں