کسی بھی ایسے مسلمان کا خون بہاناجائز نہیں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، سوائے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں۔
اگر کوئی آدمی یا پھر آپ ﷺ نے (”رَجُلٌ“ کے بجائے) ”امرأ“ کا لفظ بولا ــــــــــ تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے او ر تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پرکوئی مواخذہ نہیں۔
جس نے کسی مومن کوجان بوجھ کرقتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا، اگروہ چاہیں تو اسے قتل کردیں اورچاہیں تو اس سے دیت لیں، دیت کی مقدارتیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کرلیں وہ ان کے لیے ہے۔
جس نے اپنے مملوک (غلام یا باندی) پر تہمت لگائی حالانکہ وہ اس تہمت سے بری تھا تو اسے قیامت کے دن کوڑے لگائے جائیں گے اِلاّ یہ کہ وہ ویسے ہی رہا ہو جیسے اس نے کہا تھا۔
قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جھگڑا ہوا، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا تو وہ اور جو اس کے پیٹ میں بچہ تھا ہلاک ہوگئے
تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جس طرح کوئی سانڈ۔ کاٹتا ہے، (جاؤ) تمہارے لئے کوئی دیت نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جس کو بھی کوئی زخم آئے تو وہ اس وقت تک قصاص نہ لے جب تک اس کا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا۔ جب زخم ٹھیک ہو جائے تو اپنا بدلہ لے لے۔
جو شخص کسی اندھا دھند لڑائی جھگڑے میں مارا جائے ( اور قاتل دیکھا نہ گیا ہو) کہ ان کی آپس میں سنگباری ہوئی ہو یا ڈنڈے بازی ہوئی ہو تو اس کی دیّت قتلِ خطا والی ہو گی ۔ اور جو عمداً جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہو تو اس میں قاتل کی جان سے قصاص ہے اور جو کوئی اس ( قصاص لینے) میں آڑے آئے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔
خون و مال سے متعلق جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان اقدار میرے پاؤں تلے ہیں سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اورخانۂ کعبہ کی دربانی کے۔
قتل شبہِ عمد کی دیت بھی اتنی ہی سخت ہے جتنی قتلِ عمد کی ہے تاہم قتلِ شبہ عمد کے مرتکب کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔ قتل شبہِ عمد یہ ہے کہ شیطان لوگوں کے مابین در آئے اور (اس کے اکساوے میں آ کر) بنا کسی دشمنی اور اسلحہ اٹھائے انجانے میں ہی خون بہہ جائے۔