عن ابن عمر أنه كان يقول: «طَلَاقُ العبد الحُرَّةَ تطليقتان وَعِدَّتُهَا ثلاثة قُروء, وطلاق الحر الأَمَةَ تطليقتان وعِدَّتُهَا عِدَّةُ الأمَة حَيْضَتَانِ».
[صحيح.] - [رواه الدارقطني، وهو عند البيهقي وعبد الرزاق بمعناه.]
المزيــد ...

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ غلام کی آزاد عورت کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور اس عورت کی عدت تین حیض ہے جب کہ آزاد کی لونڈی کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے۔
صحیح - اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

شرح

اس اثر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما فرما رہے ہیں کہ مملوک غلام کی بیوی چاہے آزاد عورت ہو یا لونڈی ہو اس کی دو طلاقیں ہیں اس سے زائد اس کے پاس اختیار نہیں اور اگر آزاد عورت ہے تو اس کی عدت تین حیض ہے۔ اسی طرح آزاد مرد کے پاس دو طلاقوں کا اختیار ہے اگر اس کی بیوی لونڈی ہے اس کے علاوہ اس کے پاس اختیار نہیں اور اس (لونڈی) کی عدت دو حیض ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی
ترجمہ دیکھیں