عن حذيفة بن اليمان -رضي الله عنهما- عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: «وَالَّذِي نَفسِي بِيَدِه، لَتَأْمُرُنَّ بِالمَعرُوف، وَلَتَنهَوُنَّ عَنِ المُنْكَر؛ أَو لَيُوشِكَنَّ الله أَن يَبْعَثَ عَلَيكُم عِقَاباً مِنْه، ثُمَّ تَدعُونَه فَلاَ يُسْتَجَابُ لَكُم».
[حسن.] - [رواه الترمذي وأحمد.]
المزيــد ...

حذیفہ بن یمان - رضی اللہ عنہ - سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف (بھلائی) کا حکم دو اور منکر (برائی) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے“۔

شرح

آپ کا فرمان "والذي نفسي بيده" یہ قسم ہے، اس میں آپ ﷺ اللہ کی قسم اٹھاتے ہیں، اس لیے کہ تمام لوگوں کی جانیں اس کے ہاتھ میں ہیں، وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے، جسے چاہتا ہے مارتا ہے اور جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے، لہٰذا لوگوں کی جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، ہدایت و گمراہی، زندہ کرنا و مارنا اور ہر چیز میں تصرف اور اس کی تدبیر کرنا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا، فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا“ (سورۃ الشمس: 7، 8) (ترجمہ: قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی، پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی) تمام نفوس اللہ کے اختیار میں ہیں، اسی وجہ سے اللہ کے نبی ﷺ قسم اٹھا رہے ہیں، آپ اکثر ’’والذي نفسي بيده‘‘ کی قسم اٹھاتے تھے، اور کبھی اس طرح فرماتے "والذي نفس محمد بيده"۔ اس لیے کہ آپ ﷺ سب سے پاکیزہ جان ہے۔ اس لئے آپ سب سے پاکیزہ اور اطیب جان کی قسم کھا رہے ہیں۔ پھر جس چیز کی قسم اٹھا رہے ہیں اس کا ذکر فرمایا اور وہ یہ ہے کہ ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر قائم کریں ورنہ اللہ ہم پر اپنا عذاب بھیج دے گا اور ہماری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی۔

ترجمہ: انگریزی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان
ترجمہ دیکھیں