عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضيَ اللهُ عنه عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ اليَمِينِ».

[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم: 1645]
المزيــد ...

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"نذر کا کفارہ وہی ہے، جو قسم کا ہے"۔

[صحيح] - [رواه مسلم] - [صحيح مسلم - 1645]

شرح

نبی ﷺ نے واضح فرمایا کہ جب مطلق نذر میں کسی چیز کو متعین نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس کا ذکر کیا گیا ہو، تو اس کا کفارہ وہی ہے، جو قسم کا ہے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. نذر کی شرعی تعریف: کسی با اختیار مکلف شخص کا اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز لازم کرلینا۔
  2. قسم کا کفارہ: دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انھیں لباس دینا یا ایک غلام آزاد کرنا، البتہ اگر استطاعت نہ ہو تو تین روزے رکھے۔
  3. کفارہ کی حکمت یہ ہے کہ مسلمان نذر کا احترام کرے، اس سے روگردانی نہ کرے اور اسے اپنی زبان کا معمول نہ بنا لے۔
  4. نذر کی اقسام: 1. نذر مطلق: مثلاً کوئی یوں کہے: (اگر مجھے شفا مل گئی تو مجھ پر اللہ کے لیے ایک نذر ہے۔) یہ کہہ کر وہ خاموش ہو جائے اور کسی متعین نذر کی نیت نہ کرے۔ تو شفا ملنے پر اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔ 2. نذرِ لجاج وغضب: یہ وہ نذر ہے جسے کسی شرط پر معلق کیا جائے اور اس سے مقصود کسی کام سے روکنا ہو یا کسی کام پر ابھارنا ہو۔ مثلاً کوئی یوں کہے: (اگر میں نے تم سے بات کی تو مجھ پر ایک مہینے کے روزے لازم ہوں گے) اس کا حکم یہ ہے کہ اسے اختیار ہے کہ یا تو وہ اپنی مانی ہوئی نذر پوری کرے یا پھر (اگر وہ شرط توڑ دے تو) قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ 3. نذرِ مباح: مثلاً: (مجھ پر اللہ کے لیے لازم ہے کہ میں اپنا کپڑا پہنوں۔) اس کا حکم یہ ہے کہ اسے کپڑا پہننے یا قسم کا کفارہ ادا کرنے کا اختیار ہے۔ 4. نذرِ مکروہ: مثلاً: (مجھ پر اللہ کے لیے لازم ہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دوں۔) اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے لیے مسنون یہ ہے کہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرے اور اپنی مانی ہوئی نذر پر عمل نہ کرے۔ اور اگر وہ اس (مکروہ کام) کو کر لیتا ہے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔ 5. نذرِ معصیت: مثلاً: (مجھ پر اللہ کے لیے لازم ہے کہ میں چوری کروں۔) اس کا حکم یہ ہے کہ اسے پورا کرنا حرام ہے اور وہ قسم کا کفارہ ادا کرے۔ اگر وہ اس (گناہ) پر عمل کر لیتا ہے تو وہ گناہ گار ہوگا اور اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔ 6. نذرِ طاعت: مثلاً: (مجھ پر اللہ کے لیے لازم ہے کہ میں اتنی نماز پڑھوں۔) اور اس کا مقصد اللہ کی نزدیکی حاصل کرنا ہو۔ اگر وہ اسے کسی شرط پر معلق کرے، جیسے مریض کا شفا یاب ہونا، تو شرط پوری ہونے پر اس نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔ اور اگر اسے کسی شرط پر معلق نہ کرے تو اسے مطلقاً پورا کرنا واجب ہے۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (31)
مزید ۔ ۔ ۔