عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع حَبَلِ الحَبَلَةِ ،وكان بيعا يتبايعه أهل الجاهلية، وكان الرجل يبتاع الجَزُورَ إلى أن تُنتِجَ الناقة، ثم تُنتِج التي في بطنها. قيل: إنه كان يبيع الشارف -وهي الكبيرة المسنة- بنتاج الجنين الذي في بطن ناقته. المزيد
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حمل کے حمل کی بیع سے منع فرمایا۔ اس بیع کا طریقہ جاہلیت میں رائج تھا۔ ایک شخص ایک اونٹ یا اونٹنی خریدتا اور قیمت دینے کی میعاد یہ مقرر کرتا کہ ایک اونٹنی جنے پھر اس کے پیٹ کی اونٹنی بڑی ہو کر جنے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایک شخص اونچی کوہان والی اونٹنی بیچتا تھا اور وہ بڑی عمر کی ہوتی، اس بچے کے جنم کی شرط پر، جو اس کی اونٹنی کے پیٹ میں ہے۔