عن عبد الله بن عمر- رضي الله عنهما- مرفوعاً: «أن النبي -صلى الله عليه وسلم- نهى عن بيع الوَلاءِ وعن هِبَتِهِ».
[صحيح.] - [متفق عليه.]
المزيــد ...

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ولاء کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
صحیح - متفق علیہ

شرح

’وَلاء‘ نسب کے رشتے کی طرح ایک رشتہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی خرید و فروخت، ہبہ وغیرہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اس میں خرید و فروخت وغیرہ کے ذریعے تصرف کرنا جائز نہیں۔یہ آزاد کرنے والے اور آزاد کردہ شخص کے درمیان ایک رابطہ اور تعلق ہے۔ اس کی وجہ سے پہلا شحض دوسرے کا وارث بنتا ہے۔ اس کی خرید و فروخت اور ہبہ سے ممانعت اس لیے ہے کہ نسب کی طرح اسے ختم کرنے سے یہ ختم نہیں ہوتا۔ اگر ایک انسان اپنے سے بھائی کا نسب بیچے تو اس کا بیچنا درست نہیں یا اگر کوئی اپنے بچے سے اس کا نسب بیچے تو یہ بیچنا بھی درست نہیں یا اگر کوئی اپنے چچازاد بھائی سے اس کا نسب بیچے تو یہ بیع بھی درست نہیں، اس لیے کہ نسب کا بیچنا درست نہیں، اسی طرح ’ولاء‘ کا بیچنا بھی درست نہیں۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی سنہالی ہاؤسا پرتگالی
ترجمہ دیکھیں