عن حذيفة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «إنَّ ما أَتَخوَّفُ عليكم رجلٌ قَرَأ القرآنَ حتى إذا رُئِيَتْ بَهْجتُه عليه، وكان رِدْئًا للإِسلام، غَيَّرَه إلى ما شاء الله، فانْسَلَخَ مِنْه ونَبَذَه وراءَ ظَهْرِه، وسَعَى على جاره بالسَّيف، ورمَاه بالشِّرك»، قال: قلتُ: يا نبيَّ الله، أيُّهما أوْلى بالشِّرك، المَرْمِي أم الرَّامي؟ قال: «بل الرَّامي».
[حسن.] - [رواه ابن حبان.]
المزيــد ...

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "تمھارے بارے میں مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ ایک آدمی قرآن پڑھے، یہاں تک کہ جب اس پر قرآن کی چمک دمک نظر آنے لگے اور وہ اسلام کا معاون وحامی بن چکا ہو، تو اس کو اللہ کى مشیئت کے مطابق کسى اور چیز سے بدل دے, اس سے علاحدگی اختیار کر لے، اسے پس پشت ڈال دے، اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑے اور اس پر شرک کی تہمت لگائے۔" وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی! دونوں میں سے کون زیادہ شرک کا حق دار ہے، تہمت لگانے والا یا وہ جس پر تہمت لگائی جائے؟ تو فرمایا : "بلکہ تہمت لگانے والا"۔
حَسَنْ - اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔

شرح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں جن باتوں کا سب سے زیادہ ڈر تھا، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک آدمی قرآن کی تعلیم حاصل کرے، لوگوں کو اس کے چہرے پر قرآن کا نور، اس کا حسن اور پاکیزہ اثرات دکھائی دیں، ساتھ ہی وہ اسلام اور مسلمانوں کا حامی اور ان کا دفاع کرنے والا بھی بن چکا ہو، لیکن اچانک اپنے رویے میں تبدیلی لاتے ہوئے اسلام سے دامن چھڑا لے، قرآن سے ترک تعلق کر لے، اپنے پڑوسی کا قتل کرنے لگے اور اس پر شرک کی تہمت لگانے لگے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ دونوں میں سے شرک کا زیادہ حق دار کون ہے؟ یہ آدمی جس نے اپنے پڑوسی کا قتل کیا اور اس پر شرک کی تہمت لگائی یا اس کا پڑوسی؟ تو آپ نے جواب دیا : وہ آدمی جس نے اپنے پڑوسی پر شرک کی تہمت لگائی اور اس کا قتل کیا، وہی شرک کا زیادہ حق دار ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی ہاؤسا
ترجمہ دیکھیں