زمره: . . .
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُما قَالَ:

صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ، فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَاءَ الْآخَرُونَ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ قَضَتِ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً. وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَإِذَا كَانَ خَوْفٌ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَلِّ رَاكِبًا، أَوْ قَائِمًا تُومِئُ إِيمَاءً.
[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح مسلم: 839]
المزيــد ...

عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کسی وقت آپ ﷺ نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے مقابلے میں تھی، جو آپ کے ساتھ تھے وہ آپ ﷺ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر چلے گئے، دوسری جماعت آئی آپ نے ایک رکعت انہیں پڑھائی۔ یوں دونوں جماعتوں نے (باقی ماندہ) ایک ایک رکعت پوری کی۔
[صحیح] - [متفق علیہ]

شرح

مشرکین کے ساتھ مسلمانوں کی کسی جنگ میں آپ ﷺ نے لڑائی کے وقت ہمیں نماز پڑھائی۔ مسلمانوں کو خوف تھا کہ کہیں نماز میں مشغول ہونے سے کفار ان پر دھاوا نہ بول دیں، دشمن قبلے کی جانب نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو دو جماعتوں میں تقسیم کیا، ایک جماعت آپ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے سامنے نمازیوں کے پہرے کے لیے کھڑی ہوئی۔ جو جماعت آپ کے ساتھ تھی آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ نماز کی حالت میں چلے گئے اور دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ دوسری جماعت آئی جس نے نماز نہیں پڑھی تھی، آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔ جس گروہ نے آخر میں آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اس نے باقی رکعات کی قضا کی اور پھر پہرہ کے لیے چلی گئی، اور پہلی جماعت نے بھی اپنی ایک رکعت پوری کی۔ یہ نماز خوف پڑھنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس سے مُراد وہ ہے جو ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا: ”سب لوگ نماز میں تھے، تاہم بعض لوگ بعض کا پہرہ دے رہے تھے“۔ (بخاری)

الملاحظة
تعديل صياغة مقترح:
النص المقترح صلَّى النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف بصفات متعددة، منها أن يبتدئ الإمام الصلاة بطائفة من الجنود في مكان آمن لا تنالهم فيه سهام العدو، فيصلي بهم ركعة واحدة، بينما تقف الطائفة الأخرى تجاه العدو متأهبة لحماية المصلين، فإذا أتمَّ الإمام الركعة الأولى تأخرت هذه الطائفة إلى مواجهة العدو دون أن تُسلم بل تستمر في صلاتها، ثم تُقبل الطائفة الأخرى فتصلي ركعة مع الإمام وهو قائم ينتظرهم، فإذا سلَّم الإمام وانصرف من صلاته بعد إتمام ركعتيه، تكون كل طائفة قد أدركت معه ركعة واحدة، ثم تقوم كل طائفة منفردة لتأتي بالركعة الثانية وتُسلم، فيتحقق لكل جندي صلاة ركعتين؛ ركعة مع الإمام وركعة دونه، ثم بين ابن عمر رضي الله عنهما أنه إذا اشتدَّ الخوفُ -بحيث تعذر الالتزام بهذا الترتيب- فإنهم يصلون على حالهم فرادى، ركباناً على دوابهم أو مشاةً على أقدامهم، مستقبلين القبلة أو غير مستقبليها بحسب ما تقتضيه الضرورة ويتيسر لهم الحال، ويصلون في هذه الحالة إيماءً؛ بأن يجعل المصلي انحناءه للركوع والسجود حركة بالرأس أو الجسد، مع مراعاة أن يكون انحناؤه في السجود أخفض منه في الركوع لتمييز أركان الصلاة بعضها عن بعض.

حدیث کے کچھ فوائد

الملاحظة
صلاة الجماعة تدرك بركعة.
- الأخذ بالأسباب والحذر.
النص المقترح لا يوجد...
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (14)
زمرے
  • . .