عن سفينة، قال: كنت مَمْلُوكًا لأم سلمة فقالت: أُعْتِقُكَ وأشترط عليك أن تخدم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ما عِشْتَ فقلت: «وإن لم تَشْتَرِطِي عَلَيَّ، ما فَارَقْتُ رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ما عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِي، واشْتَرَطَتْ عَلَيَّ».
[حسن.] - [رواه أبو داود وابن ماجه وأحمد.]
المزيــد ...

چنانچہ یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت میں سے تھے جن کے جسم کسی عذر یا مرض کی وجہ سے مدینہ میں روک لئے گئے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس عزوہ میں نہ نکل سکے، لیکن وہ اپنے دلوں اور عزم محکم کے ساتھ نکلے، چنانچہ وہ اپنی روحوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی ساتھ تھے اور اپنے وجود کے ساتھ دار الہجرت مدینہ میں۔ اور یہ قلبی جہاد کہلاتا ہے،
حَسَنْ - اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی ایغور
ترجمہ دیکھیں