عن جابر بن عبد الله قال: «نَهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أنْ يُقتل شيء مِن الدَّواب صَبْرا».
[صحيح.] - [رواه مسلم.]
المزيــد ...

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی جانور کو باندھ کر کسى چیز سے مار مار کر قتل کرنے سے منع کیا ہے"۔
-

شرح

اس حدیث میں جانوروں بلکہ کسی بھی ذی روح کو قید میں رکھ کر مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے اندر غیر شرعی طریقے سے مار کر تلف کرنا بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر نشانہ بناکر تیر اندازی کرنا وغیرہ۔ کیونکہ اس میں جانور کو عذاب دینا، اس کی جان کو تلف کرنا، اس کی مالیت کو ضائع کرنا اور شرعی طور پر ذبح نہ کرنا جیسے مفاسد پائے جاتے ہيں۔ ان مفاسد کے ساتھ ساتھ چونکہ یہ ایک بے سود قتل ہے، اس لیے شریعت نے اس سے منع کیا ہے اور حدیث میں وارد نہی کا صیغہ حرمت کا تقاضا کرتا ہے۔ شریعت اسلامی کا اس طرح انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کا برتاو روا رکھنا، اس کی عظمت اور اس کی تعلیمات کی ہمہ گیری کا بین ثبوت ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی
ترجمہ دیکھیں
1: رشوت دینا، رشوت لینا اور اس میں واسطہ کا کردار ادا کرنا حرام ہے, نیز اس کے تعلق سے کسى قسم کا تعاون کرنا حرام ہے، کیوںکہ یہ حرام کام پر مدد کرنے کے زمرے میں داخل ہے