عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: «لا تَلَقَّوُا الرُّكبان، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، ولا تَنَاجَشُوان ولا يبع حَاضِرٌ لِبَادٍ، ولا تُصَرُّوا الإبلَ والغنم، ومن ابتاعها فهو بخير النَّظَرَين بعد أن يحلبها: إن رَضِيَهَا أمسكها، وإن سَخِطَها رَدَّهَا وَصَاعا ًمن تمر».
[صحيح.] - [متفق عليه، والرواية الثانية رواها مسلم.]
المزيــد ...

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”(تجارتی) قافلوں سے آگے جاکر نہ ملاکرو ( بلکہ ان کو منڈی میں آنے دیا کرو ) کسی کی بیع پر بیع نہ کرو اور نہ ہی (خریداری کی نیت کے بغیر)محض ریٹ بڑھانے کے لئے بولی لگاو اور کوئی شہری شخص (دلال بن کر) کسی دیہاتی کی طرف سے نہ بیچے اور (بیچنے کے لیے) اونٹنیوں اور بکریوں کے تھنوں میں دودھ کو روک کر نہ رکھو۔ اگر کسی نے(دھوکہ میں آکر ) کوئی ایسا جانور خریدلیا تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دونوں اختیارات ہیں یعنی چاہے تو جانور کو رکھ لے اور چاہے تو واپس کردے اور ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دودھ کے بدلے دے دے“۔
صحیح - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

شرح

نبی ﷺ بیع کی پانچ حرام صورتوں سےمنع فرما رہے ہیں کیونکہ ان سے فروخت کنندہ یا خریدار یا ان کے علاوہ کسی اور شخص کو نقصان ہوتا ہے: 1- جو لوگ اپنے سامان تجارت جیسے اشیائے خوردنی اور جانور بیچنے کے لئے آ رہے ہوں ان کے منڈی تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کے پاس جا کر ان سے خریداری کرنے سےمنع فرمایا کیونکہ ان کو ریٹ کا علم نہیں ہوتاہے۔ چنانچہ ممکن ہے کہ یہ شخص فروخت میں انہیں دھوکہ دے کر انہیں ان کے رزق سے محروم کر دے جس کے لئے انہوں نےاتنی مشقت اٹھائی ہوتی ہے۔ 2- اسی طرح نبی ﷺ نے کسی کی فروخت پر فروخت اور اسی طرح اس کی خریداری پر خریداری کرنے سے منع فرمایا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ شخص خیارِ مجلس یا خیارِ شرط کے دوران خریدار کو یہ کہے کہ میں تمہیں اس سامان تجارت سے زیادہ عمدہ سامان اس سے کم قیمت پر دیتا ہوں یا پھر یہ دوسرا شخص اگر فروخت کنندہ ہو تو اس سے کہے کہ اس کی جو قیمت لگ چکی ہے میں اس سے زیادہ میں تم سے یہ خریدتا ہوں اور ایسا کرنےسے اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ شخص بیع کو فسخ کرکے اس کے ساتھ عقد کر لے۔ اسی طرح دونوں قسم کی اختیار ختم ہو جانے کے بعد بھی آپ ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ۔ کیونکہ (فروخت کنندہ یا خریدارکو) اس طرح سے اکسانا باہمی بغض و عداوت اور نفرت کا سبب بنتا ہےاوراس سے اس آدمی کو اس کے رزق سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔ 3- آپ ﷺ نے بیعِ ”نجش“ سے منع فرمایا جس کا معنی یہ ہے کہ سامان تجارت کو خریدنے کی نیت کے بغیر ہی اس کا ریٹ بڑھا دیا جائے جس کا مقصود فروخت کنندہ کو زیادہ قیمت دلا کر اسے نفع پہنچانا یا پھر سامان تجارت کا بھاؤ بڑھا کر خریدار کو نقصان پہنچانا اور اسے اس کے خریدنے سےروکنا ہو۔ اس کی ممانعت اس لئے ہے کیونکہ اس میں خریداروں کے ساتھ کذب بیانی ہوتی ہے اور انہیں دھوکہ دیا جاتا ہے اور مکر فریب کے ذریعے سے سامان تجارت کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے۔ 4- اسی طرح آپ ﷺ نے شہری شخص کو دیہاتی شخص کا سامان ِتجارت بیچنے سے منع فرمایا کیونکہ اس کو اس کے ریٹ کا پوری طرح سے علم ہوتا ہے اور وہ اس میں کوئی گنجائش چھوڑتا ہی نہیں کہ خریدار فائدہ اٹھا سکیں۔ جب کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، اللہ ان میں سے کچھ کو کچھ کے ذریعے رزق پہنچاتا ہے“۔ 5- چوپایوں میں سے مُصَرّاۃ (یعنی ایسا جانور جسے بیچنے کے لئے اس کے دودھ کو کچھ عرصے کے لئے اس کے تھنوں میں ہی رہنے دیا جائے) کی بیع کرنے کی ممانعت جس سے خریدار کو یہ لگے کہ اتنا دودھ دینا اس جانور کا معمول ہے اور اس خیال سے وہ جانور کو زیادہ قیمت پر خرید لے حالانکہ وہ حقیقت میں اتنے کا نہ ہو۔ ایسا کرنے پر وہ شخص خریدار کو دھوکہ دینے اور اس پر ظلم کرنے کا مرتکب ہو گا۔ اسی لئے شارع علیہ السلام نے خریدار کے لئے اتنی مدت متعین کر دی جس میں وہ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا تدارک کر سکتا ہے جو کہ تین دن کا اختیار ہے چاہے وہ اس جانور کو اپنے پاس رکھ لے یا پھر یہ پتہ لگنے کے بعد کہ وہ مصراۃ ہے، اسے فروخت کنندہ کو واپس کر دے۔ اگر اس نے دودھ دھو لیا ہو تو جانور کے ساتھ ساتھ اس دودھ کے بدلے میں ایک صاع کھجور بھی دے دے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی سنہالی ایغور ہاؤسا پرتگالی
ترجمہ دیکھیں