عن عائشة رضي الله عنها أنها اشترتْ بَريرَة مِنْ أُناسٍ من الأنصار واشْتَرَطوا الوَلاء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «الوَلاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَة»، وخَيَّرَهَا رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان زوْجُها عبْدا، وأهدَتْ لعائشة لحْما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لو صَنَعْتُم لنا من هذا اللحم»، قالت عائشة: تُصُدِّقَ به على بَرِيرَة، فقال: «هو لها صدَقة ولنا هديَّة». المزيد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے بریرہ کو کچھ انصاریوں سے خریدا، جنھوں نے (اپنے لیے) ولاء (میراث) کی شرط رکھی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء (میراث) کا حق دار ولی نعمت (آزاد کرانے والا) ہوتا ہے“۔ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو (نکاح کو باقی رکھنے کے متعلق) اختیار دیا۔ ان کے شوہر غلام تھے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت کا ہدیہ بھیجا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس گوشت میں ہمارے لیے بھی تو حصہ رکھنا تھا“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ گوشت بریرہ کے پاس صدقہ آیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بریرہ کے لیے صدقہ تھا؛ لیکن ہمارے لیے (صدقہ نہیں) ہدیہ ہے“۔