1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)

حدیث دورانِ نماز جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ چنانچہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اسے جہاں تک ہو سکے روکے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

«إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ العُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ وَحَمِدَ اللَّهَ، كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ: فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَثَاءَبَ ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ». زَادَ التِّرْمِذِيُّ: «فِي الصَّلَاةِ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دورانِ نماز جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ چنانچہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ جہاں تک ہو سکے اسے روکے“۔

صحیح اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

شرح

نماز میں جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے کیوں کہ یہ جسم کے بوجھل اور ڈھیلے پن اور اس کی فربہی و سستی اور نیند آنے کی وجہ سے آتی ہے۔ یہ شیطان ہی تو ہوتا ہے جو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ نفس کو اس کی شہوات دی جائیں اور خوب کھایا پیا جائے۔ چنانچہ نمازی کو جب جمائی آنے لگے یا پھر وہ جمائی لینا چاہے تو اسے چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے اسے ہٹائے اور روکے بایں طور کہ دانتوں اور ہونٹوں کو بھینچ کر اسے روکے تاکہ شیطان کی چاہت پوری نہ ہو سکے یعنی وہ اس کی صورت کو بگاڑ کر اور اس کے منہ میں داخل ہو کر اس پر ہنس نہ سکے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے۔

حدیث کے بعض فوائد

تراجم کا مشاہدہ

15 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
زمرہ جات (کٹیگریز)
  • . .