اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو میں یہ چاہوں گا کہ میرے اوپر تین راتیں اس حال میں نہ گزریں کہ میرے پاس اس (سونے) میں سے کوئی شے بچی پڑی ہو۔ سوا اس کے، جسے میں کسی قرض دینے کے لیے رکھ چھوڑوں۔
{ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} (پھر تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤگے۔) [سورہ تکاثر : 8] نازل ہوئی
مسکین وہ نہیں، جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے ہی واپس لوٹا دیتے ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے، جو سوال نہیں کرتا۔
کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کوئی چیز نہیں مانگے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟۔
”دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے۔“
اس میں سے یعنی بکری سے کیا باقی بچا ہے؟ (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے عرض کیا کہ بجز شانہ کے اور کچھ باقی نہیں رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بجز شانہ کے اور سب باقی ہے۔
تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنی جان کی طرف سے بے خوف ہو، جسمانی اعتبار سے صحت مند ہو، ایک دن کی خوراک کا سامان اس کے پاس ہو، تو گویا اس کے لیے ساری دنیا جمع کردی گئی۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو انہیں کچھ خراج دیا کرتا تھا اور آپ اس کا خراج کھانے کے کام میں لاتے تھے۔
محمد ﷺ کے اہل خانہ ، جب سے وہ مدینہ آئے، مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی موت کے وقت نہ کوئی درہم ودینار چھوڑا‘ نہ کوئی غلام‘ نہ کوئی لونڈی اور نہ کوئی اور چیز۔ البتہ اپنا سفید خچر، اپنے ہتھیار اور ایک زمین چھوڑی جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا۔