حدیث کی فہرست

”رضاعت سے (بھی) وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت (نسب) کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول الله ﷺ میرے پاس تشریف لائے، جب کہ میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: اے عائشہ! یہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا کہ یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس بات کو دیکھ بھال لیا کرو کہ تمھارا رضاعی بھائی کون ہو سکتا ہے؟ رضاعت کا تعلق بھوک کے ساتھ ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ نے حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں اور وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ایک یا دو بار دودھ چوسنے (پینے) سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
عربي الإنجليزية الأوردية
قرآن کے اندر یہ بھی اتارا گیا تھا کہ (دس بار دودھ پلانا ثابت اور متحقق ہونے پر حرمت ثابت ہوگی), پھر اسے منسوخ کرکے پانچ بار کی بات اتاری گئی۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو اسے قرآن کے ساتھ پڑھا جا رہا تھا
عربي الإنجليزية الأوردية
رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہےجب وہ (دودھ) انتڑیوں کو پھاڑ دے (یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے) اوریہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اب (نکاح) کیسے (باقی رہ سکتا ہے) جب کہ اس عورت کا دعوی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا؟!
عربي الإنجليزية الأوردية
اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی (یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی) جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔ مجھ کو اور ابوسلمہ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ چنانچہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو میرے سامنے نکاح کے لیے پیش نہ کرو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
تم (سالم کو) دودھ پلا دو ، تم اس کے اوپر حرام ہو جاؤ گی اور وہ (کراہت) جو ابو حذیفہ کے دل میں ہے ختم ہو جائے گی۔
عربي الإنجليزية الأوردية