عن عبد الله بن عمر-رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: «من ابْتَاعَ طعاما فلا يَبِعْهُ حتى يَسْتَوْفِيَهُ»، وفي لفظ: «حتى يَقْبِضَهُ».
[صحيح.] - [متفق عليه.]
المزيــد ...

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کوئی غلہ خریدے، اسے چاہیے کہ اس کو پورا پورا لے لینے سے پہلے نہ بیچے“۔ ایک اور روایت میں ”حتى يَسْتَوْفِيَهُ“ کے بجائے ”حتى يَقْبِضَهُ“ (اس پر قبضہ کر لینے) کے الفاظ ہیں۔
صحیح - متفق علیہ

شرح

چوں کہ غلے پر قبضہ عقد کو مکمل اور ملکیت کو پورا کرنے والے امور میں سے ہے، چنانچہ شارع حکیم علیہ الصلاۃ والسلام نے خریدار کو تب تک اسے (آگے) بیچنے سے منع فرمایا، جب تک کہ وہ اسے اپنے قبضے اور تحویل میں نہ لے لے اور اسے اس پر مکمل دسترس اور تصرف نہ حاصل ہو جائے۔ یہی حکم اس سامان کا بھی ہے جو اناج کے علاوہ ہیں، بیع کے متعلق اس حم میں بعض وہ عقود بھی شامل ہوجاتے ہیں جو بیع کے حکم میں ہی آتے ہیں جیسے کرایہ پر دینا، کسی عوض کے بدلے ہبہ کرنا، رہن اور حوالہ، رہے وہ معاملات جو بیع اور اس کے قبیل سے نہیں ہیں تو ان میں تصرف کرنا جائز ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ایغور ہاؤسا پرتگالی
ترجمہ دیکھیں